خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 112

خطبات طاہر جلد 15 112 خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء رک رہا ہوں۔دوسرا یہ کہ جو سننے والا ہے جس نے زیادتی کی ہے اس کو یہ کہہ کر انسان ایک تسکین پالیتا ہے کہ کہیں مجھے کمزور ہی نہ سمجھ رہا ہو اور بعض ایسے جو شیلے ہیں کہ ان کو صرف غصہ دبانا مشکل نہیں بلکہ یہ برداشت کرنا مشکل ہے کہ اگلا مجھے نکما ہی نہ سمجھ رہا ہو۔وہ سمجھتا ہے کہ میری بے عزتی کر جائے جو مرضی کر جائے میں اسی طرح بیٹھا رہ جاؤں گا۔چنانچہ ایسے مزاج کے لوگ بعض دفعہ اپنے کپتے پن پہ بھی فخر کرتے ہیں۔خبر دار ہے جو ہمارے متعلق کوئی کہے ہم بڑے کپتے ، بدمعاش لوگ ہیں۔ہم یوں جواب دیا کرتے ہیں۔اب وہ بے چارے کتے بدمعاش اگر تھے روزے میں پھنس گئے ہیں تو کس طرح برداشت کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے طریقہ سکھا دیا ہے تم یہ کہ دیا کرو کہ میں پھنسا ہوا ہوں، مجبور ہوں ، بندھا ہوا ہوں ورنہ میرا دل تو بڑا چاہ رہا ہے اس وقت کہ جوابی حملہ تم پہ کروں تو نفسیاتی طور پر جو ایک کمزوری کا احساس پیدا ہوتا ہے یہ بات کہنا اس کمزوری کے احساس کو دور کر دیتا ہے کہ میں تو خدا کی خاطر ر کا ہوا ہوں اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس کو آئندہ جوشوں پر قابو پانے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ایک انسان جب اپنے جوشوں کو کھلی چھٹی دیتا ہے تو یاد رکھیں کہ ہمیشہ وہ چھٹی آگے بڑھتی جاتی ہے۔مونہ تھوڑ اسا کھلتا ہے تو پھر پھٹنے لگتا ہے۔پھر ایسے لوگ مستقلاً منہ پھٹ ہو جاتے ہیں اور وہ لوگ جو منہ کو سنبھالتے ہیں وہ سنبھالتے سنبھالتے منہ کو ادب سکھا دیتے ہیں اور پھر بے اختیار منہ سے کوئی سخت لفظ نکلتا ہی نہیں۔تو رمضان مبارک میں جو یہ بات زور سے کہی جاتی ہے آواز کے ساتھ کہ میں خدا کی خاطر رکتا ہوں تو کسی انسان میں تو یہ جذبہ جاگتا ہو گا کہ اللہ کی خاطر ان باتوں سے رکنا اگر اچھی بات ہے تو رمضان کے بعد میں کیوں پھر ایسی باتوں کو جاری رکھوں اور رمضان کی ایک مہینے کی پریکٹس اس کے گیارہ مہینے کے کام آسکتی ہے اور وہ واقعہ رمضان سے نکلتا ہے تو پہلے سے زیادہ اپنے جذبات پر قابو پا کر اور قابو پانے کی صلاحیت حاصل کر کے نکلتا ہے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں یہ بھی بخاری ہی سے حدیث لی گئی ہے اور ابو ہریرہ کی روایت ہے، کہ جو شخص جھوٹ بولنے اور جھوٹ بولنے پر عمل کرنے سے اجتناب نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔(صحيح البخارى كتاب الصوم باب من لم يدع قول الزور والعمل به في الصوم ) اور یہاں روزے کے دوران کی بحث نہیں ہے بلکہ رمضان کی بات ہورہی ہے۔رمضان کا