خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 114

خطبات طاہر جلد 15 114 خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء قومیں غرق ہو چکی ہیں اس بات میں۔دعا کریں کہ ہمیں یہ جھنڈا اٹھائے رکھنے کی توفیق ملے۔اب تک تو خدا کے فضل سے ہم نے بڑی محنت اور کوشش کے ساتھ اس جھنڈے کو بلند رکھا ہے اور اپنی قومی روایات کو جو اعلیٰ روایات ہیں مرنے نہیں دیا مگر ایسے لوگ کم رہ گئے ہیں جزائر کی صورت میں ہیں اور ان میں بھی پھر انفرادی طور پر بہت سے نوجوان ایسے بھی ہوں گے جو رفتہ رفتہ دوسرے سیلاب میں بہہ گئے ہیں یا بہہ جانے والے ہیں۔تو ان کے لئے دعا کرنی چاہئے جن کو احساس ہے کہ ہم ان خوبیوں کو زندہ رکھیں اور قوم میں بالعموم گردو پیش میں اس کا درس دینا چاہئے کہ جھوٹ سے بڑی دنیا میں اور کوئی لعنت نہیں ہے۔قوموں کے اعتبار سے اور ملکوں کے اعتبار سے وہ ممالک جن میں یہ فخر ہوتا تھا کہ ہم کم سے کم اپنی قوم سے جھوٹ نہیں بولتے اور سیاستدان جو قوم سے جھوٹ بولے اس کا تصور بھی نہیں تھا لیکن اب تو یہ روز مرہ کی بات بن گئی ہے۔ایسے ممالک ہیں جہاں پولیس کے متعلق تقریباً یقین ہوا کرتا تھا کہ وہ جھوٹ نہیں بولے گی مگر اب تو روز مرہ دستور بن گئے ہیں ان ممالک میں کہ پولیس بھی جھوٹے مقدمے بناتی اور اس کے نتیجے میں بعض معصوموں کو مظالم کا نشانہ بنا دیتی ہے ایسے واقعات ہوتے ہیں ان ملکوں میں کہ ایک آدمی بے چارہ دس پندرہ سال کی قید برداشت کر کے اپنے جوانی کے دن قید میں گلا کر اور ضائع کر کے باہر نکلتا ہے اس لئے کہ پندرہ سال کے بعد ثابت ہوتا ہے کہ پولیس نے سارا کیس ہی جھوٹا بنایا ہوا تھا۔تو جھوٹ کا تو اب یہ حال ہو گیا ہے اور جھوٹ کے خلاف جو جہاد کرنا ہے اس کا جھنڈا جماعت احمدیہ کے ہاتھ میں تھمایا گیا ہے۔اگر آپ نے اس جھنڈے کوگر نے دیا تو کوئی ہاتھ نہیں ہو گا جو اس کو اٹھا سکے گا۔اس لئے ساری دنیا میں جھوٹ کے خلاف جہاد جاری رکھیں اور یہ جہاد اپنے نفوس سے شروع ہو گا اپنے گھروں سے شروع ہوگا اور رمضان مبارک میں تو بالخصوص آپ کے لئے بہت اچھا موقع ہے کہ رمضان کی ہوائیں آپ کی تائید کر رہی ہیں۔رمضان سچ کی ہوائیں چلاتا ہے اور یہ ہوائیں جو ہیں یہ آپ کی مددگار بن گئیں ہیں۔پس جھوٹ سے خود بھی اجتناب کریں اور اپنے بچوں پر بھی نظر رکھیں ، اپنی بیوی پر اپنے ماحول اپنے گردو پیش پر ، اپنے دوستوں پر کہ ان کی جو عادت بن گئی ہے روز مرہ جھوٹ بولنے کی اس سے وہ نکل کے باہر آئیں۔بعض لوگ کہتے ہیں جی یہ تو عادت کی بات ہے معمولی لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ عادتیں جو ہیں