خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 103
خطبات طاہر جلد 15 103 خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء گئے۔پتہ نہیں ہم ویسے ہی تو نہیں نکل رہے جیسے داخل ہوئے تھے۔چکنا گھڑا لا کھ سال بھی پانی میں رہے جب نکلتا ہے اسی طرح چکنا، پانی کے بغیر، اس کے اندر پانی کا ایک ذرہ بھی سرایت کیا ہوا محسوس نہیں ہوتا Scientifically تو معلوم کرلیں گے مگر انسانی تجربے کے لحاظ سے چکنا گھڑا کہتے ہیں لاکھ سال بھی رہے گا تو چکنا گھڑا ہی نکلے گا۔پس ایسے بھی تو ہیں بدنصیب جو جیسے داخل ہوتے ہیں ویسے ہی نکل آتے ہیں۔مگر ایسے بھی ہیں جو جیسے داخل ہوتے ہیں اس سے بدتر نکلتے ہیں اور ان سے اللہ تعالی کی پناہ مانگنی چاہئے ان کے متعلق ڈرنا چاہئے کہ بعض دفعہ ایسے لوگ قوموں کو تباہ کر دیتے ہیں۔رمضان کے مہینے میں جو لوگ شرارت سے باز نہیں آرہے، جو فتنہ فساد پھیلانے سے باز نہیں آتے ، جو دنیا کا امن اٹھانے کی تدبیریں سوچتے ہیں اور خدا کے نام پر منبر پر کھڑے ہو ہو کے ایسی باتیں کرتے ہیں جس سے بعضوں کے دل بعض دوسروں سے نفرت کرنے لگیں اور بعض صورتوں میں غیظ و غضب سے بھر جائیں ، رمضان کے مہینے میں مذہبی منافرت کی تقریریں بھی خوب چلتی ہیں۔پس ایسے بھی ہیں جو داخل تو کچھ نسبتا بہتر ہوتے ہیں لیکن جب نکلتے ہیں تو بہت بدتر ہو کے نکلتے ہیں تو یہ تینوں امکانات ہیں اور یہ گنتی کے چند دن دیکھیں کیسے کیسے انقلاب لے آتے ہیں۔پس دعا کریں اور توفیق پائیں اللہ تعالیٰ سے دعاؤں کے ساتھ محنت کے ساتھ کہ جو دن باقی ہیں ان کا حق ادا کریں ان کو اس طرح اپنا لیں کہ آپ کو ان دنوں سے پیار ہونے لگے ، وہ دن آپ ایسا اپنالیں کہ اپنی برکتیں آپ کے ساتھ ہمیشہ کے لئے چھوڑ جائیں ، پس جب نکلیں تو دامن بھرے ہوئے ہوں نکلیں تو کچھ پیاس بجھی ہوئی ہو، کچھ پیاس لگی ہوئی ہو، پیاس بجھے اس پہلو سے کہ خدا کے قرب کی علامتیں دیکھیں اور اس کے لطف اٹھا ئیں۔پیاس لگے اس پہلو سے کہ جو مزہ ایک دفعہ پڑ گیا ہے اس کی یاد آپ کو پھر ان مزوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے بے قرار کر دے، تو یہ وہ چند دن ہیں جن کے تقاضے ہیں۔ان تقاضوں کے متعلق جو مختلف نصیحتیں آنحضرت ﷺ کی احادیث سے میں نے اخذ کی ہیں اور کچھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ملفوظات یا تحریرات سے اخذ کی ہیں۔میں آپ کے سامنے وہ رکھتا ہوں۔صحیح بخاری کتاب الصوم باب الريان للصائمين میں درج ہے کہ حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریان کہتے ہیں۔قیامت کے