خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 104
خطبات طاہر جلد 15 104 خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء دن روزہ دار اس سے داخل ہوں گے اور ان کے سوا کوئی اس میں سے داخل نہ ہو گا اور جب وہ داخل ہو جائیں گے تو وہ بند کر دیا جائے گا اور پھر کوئی اس سے جنت میں داخل نہیں ہوگا۔یہ جو ریسان لفظ ہے یہ دراصل سیری کا نام ہے۔سخت پیاس اور طلب کے بعد کوئی چیز حاصل ہو تو اس سے جو لطف حاصل ہوتا ہے اس کا نام دیان ہے۔پانی تو ہم روز مرہ پیتے ہی ہیں مگر ریان اصل میں اس پانی پینے کو کہیں گے جس میں پیاس بھڑک اٹھی ہو اور پھر جب آپ پانی پیتے ہیں تو جو سیرابی نصیب ہوتی ہے اس کو ریان کہا جاتا ہے۔پس ریان کا معنی ہے جو خاص طور پر قابل توجہ ہے اور دوسرا جنت کا گیٹ یا جنت کا دروازہ ایک ہی معنے رکھتے ہیں ، اس ضمن میں پہلے بھی میں سمجھا چکا ہوں کہ یہ تمثیلات ہیں۔یہ تو نہیں کہ لوہے، لکڑی یا اینٹ پتھر کا کوئی گیٹ بنا ہوا ہے۔مراد یہ ہے کہ انسانی فطرت اس طرح تیار کی گئی ہے کہ بعض نعمتیں جنت میں انہی کو حاصل ہوں گی جن کے لئے پہلے انسانی فطرت کو ان کے مطابق تیار کر دیا گیا۔پس ریان کے دروازے سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں جنہوں نے خدا کی خاطر اپنی خواہشات کو روک دیا اور پیاس سے مراد صرف پانی کی بحث نہیں ہے ،تمام خواہشات پیاس کا مقام رکھتی ہیں، تمام خواہشات ایک بھڑ کی پیدا کرتی ہیں جو پیاس سے مشابہ ہے اور دنیا کے ادب میں ان کو ہمیشہ پیاس ہی قرار دیا گیا۔پس ریان کا معنی صرف پانی کی پیاس نہیں، ہر طلب، ہر خواہش جو فطر تا انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے اور ایک بھر کی لگا دیتی ہے جب وہ بھڑکتی ہے اور جوش مارتی ہے اس وقت جو لوگ خدا کی خاطر رکے رہتے ہیں جب وہ اپنی پیاس کو خدا کی اجازت سے بجھاتے ہیں تو جو لطف اس کا ہے وہ عام حالات میں نہ پیاس بجھانے کا لطف ہے نہ ویسے خواہش کو پورا کرنے میں کوئی لطف ہے۔بھڑ کی ہوئی خواہش کو پورا کیا جائے تو لطف اور ہی بڑھ جاتا ہے۔مگر اگر کسی محبوب کی رضا کی خاطر ایسا کیا جائے تو پھر جو لطف ہے وہ دہرا لطف ہے اور اسی کا نام وہ دروازہ ہے جس میں سے وہ داخل ہوں گے۔ورنہ پیاس کے مضمون کو تو سب جانتے ہیں۔پیاس کی سیری سے بھی سب واقف ہیں۔کوئی طوعاً کوئی مجبوراً یہ تو ہوہی نہیں سکتا کہ امیر آدمی کو کبھی پیاس کا تجربہ ہی نہ ہوا ہو یا خواہش ہوگئی ہو تو اسے دبانے کی توفیق نہ ملی ہو یا اس کا تجربہ نہ ہوا ہو۔بعض دفعہ توفیق مجبوری کی توفیق ہوتی ہے۔پس امیر سے امیر آدمی کی ہر خواہش کہاں پوری ہوتی ہے۔بعض خواہشیں زور مارتی رہتی ہیں جب پوری ہوں تب پتا چلتا ہے۔مگران