خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 997
خطبات طاہر جلد 15 997 خطبہ جمعہ 27 دسمبر 1996ء ضرورت بہت شدید ہو گئی تھی۔مثلاً ابھی میں نے افریقہ کے ممالک کا دورہ کروایا ہے تو پتا چلا کہ بہت بڑی بڑی جماعتیں ہیں جن سے ابھی تک ہمارا ڈش انٹینا کے ذریعہ بھی رابطہ نہیں ہو سکا اور جو نمائندے میرے گئے انہوں نے محنت کی بہت دور دراز کے گہرے علاقوں میں گئے اور بعض رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ وہ دیکھ کر اس طرح ان کے چہرے چمک اٹھے کہ اچھا ہمارا بھی خیال ہے ان کو لیکن ایک خوش کن بات جو سب جگہ دکھائی دی، وہ یہ تھی کہ ایسے علاقے جن میں کثرت سے بیعتیں ہوئی تھیں اور دو تین سال پہلے ہوئی تھیں۔جب وہاں رابطہ کیا گیا تو تمام تر احمدیت پر قائم تھے اور بڑے خلوص سے قائم تھے اور انہوں نے کھلم کھلا یہ کہا کہ ہم نے تو سچ سمجھ کر قبول کیا ہے۔اگر آپ ہماری طرف توجہ نہ بھی کرتے تو احمدیت پر ہم نے قائم ہی رہنا تھا۔مگر ہمیں پورا پتا ہی نہیں کہ احمدیت ہے کیا ، تفاصیل کا علم نہیں ہے۔اس لئے آپ کا فرض تھا ہمیں پوچھتے اور ہماری ضروریات پوری کرتے۔چنانچہ ان سب جگہوں میں ایک تو میں نے یہ ہدایت کی کہ ڈش انٹینا ز لگائے جائیں کثرت کے ساتھ اور مرکزی انتظام کے تابع روزانہ اس علاقے کے باشندے ایک جگہ اکٹھے ہوسکیں۔دوسرا یہ کہ وہاں ان کے لئے بڑی مساجد بنی چاہئیں۔ایسے مراکز بنے چاہئیں جہاں ان کی تربیت کا انتظام ہو اور انہی میں سے مبلغین بنائے جائیں اور پھر ان کو انہی علاقوں میں مستقل جگہوں پر مقرر کر دیا جائے۔یہ ضرورتیں جو ہیں یہ اتنی زیادہ ہیں کہ جس علاقے میں یعنی افریقہ میں جہاں دس لاکھ سے اوپر احمدی ہوئے ہوں ایک سال میں وہاں آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان کی کم سے کم ضرورتیں پوری کرنے پر بھی کتنے خرچ کی ضرورت ہوگی اور چونکہ پچھلے سال یہ خرچ بہت بڑھے اس لئے میرے دل میں یہ فکر تھی ، میں بار بار ان سے پوچھتا تھا کہ وقف جدید کے چندے میں سے کتنا باقی رہ گیا ہے اور نئی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے ہم کہاں کہاں سے روپیہ سمیٹ سکتے ہیں۔اب خدا تعالیٰ نے کس طرح مدد فرمائی ہے اور جس ملک کے ذریعے مدد فرمائی ہے اس ملک کی انتظامیہ کے بھی خواب و خیال میں نہیں تھا کہ یہ عظیم کا رنامہ خدا ہمارے ہاتھوں سرانجام دلوائے گا۔چنانچہ سر فہرست آج اس سال کی قربانی میں امریکہ ہے اور اتنی عظیم وقف جدید میں قربانی کی توفیق ملی ہے کہ امیر صاحب جب فون پہ مجھے بتا رہے تھے تو کہتے تھے میں تو حیران ہوں کہ کیا ہوا ہے۔میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ خاموشی کے ساتھ اتنا رو پیدا کٹھا ہو چکا ہوگا کہ جب وہ