خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 996
خطبات طاہر جلد 15 996 خطبہ جمعہ 27 دسمبر 1996ء بیرون کا چندہ ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ زیادہ تر ہندوستان اور افریقہ پر خرچ ہوتا ہے اور زیادہ تر کیا تمام تر کہنا چاہئے ، ہندوستان اور افریقہ پر خرچ ہوتا ہے۔یہاں تک کہ پاکستان سے بھی وقف جدید کے چندوں میں جو بچت ہوتی ہے وہ بیرونی ممالک میں خرچ کے لئے بھیجنے لگے ہیں۔تو یہ سعادت ان کی ابھی قائم ہے کہ بیرونی دنیا پر خرچ کرنے میں کوئی بار محسوس نہیں کرتے ، کوئی کمزوری نہیں پاتے اور بڑے حو صلے اور خوشی کے ساتھ پاکستان سے باہر کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں۔مغربی دنیا میں بھی اب بہت حد تک یہ صلاحیت پیدا ہو گئی ہے کہ اپنے غریب بھائیوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں بہت حوصلے اور وسعت قلب کے ساتھ حصہ لیتے ہیں اور کبھی یہ سوال نہیں اٹھایا جاتا کہ اتنا چندہ ہم نے دیا تھا ہم پر اتنا کیوں خرچ نہیں ہوا، اتنا بڑا حصہ دوسرے ممالک کو کیوں دے دیا گیا یہ سوچ ہی بیمار سوچ ہے جو احمدیت میں خدا کے فضل سے پینے کی گنجائش ہی نہیں رکھتی ، توفیق ہی نہیں رکھتی۔ایک آدھ ملک میں جب یہ بیماری پیدا ہوئی اور میں نے اسی وقت ان کو پکڑا تو اس کے بعد وہ بالکل اس طرح مٹ گئی جیسے ان کی جڑیں اکھیڑ دی گئی ہوں پھر کبھی اس وہم نے ان کے خیالات میں پراگندگی پیدا نہیں کی۔تو اس کو بھی آپ یا درکھ لیں کہ ہمارے چندے خدا کی خاطر ہیں اور یہ ساری دنیا خدا نے پیدا کی ہے۔اسلام عالمگیر مذہب ہے اسلام کے تقاضے،ضرورت کے تقاضے دنیا میں کہیں بھی پیدا ہوں گے۔پس یہ بحث نہیں ہے کہ چندہ کس نے دیا ہے اور کہاں خرچ ہونا چاہئے یعنی کس نے دیا ہے کی بحث نہیں ہے اور یہ بحث نہیں ہے کہ جس نے دیا ہے اسی پر خرچ کیا جائے۔یہ بحث ضرور رہے گی کہ اس وقت عالمی تقاضوں کے لحاظ سے کس ملک کو زیادہ ضرورت ہے اور کون سا ملک ہے جو تیز رفتاری کے ساتھ سچائی کی طرف متوجہ ہورہا ہے اور اسی نسبت سے اس کی ضرورتیں بڑھ رہی ہیں۔پس خرچ میں ہمیشہ جماعت احمدیہ نے اس بات کو راہنما رکھا ہے اور یہ بات بے تعلق سمجھی ہے اور ہمیشہ بے تعلق سمجھی جائے گی کہ کس نے زیادہ دیا تھا اور کس نے کم دیا تھا۔ضرورت جہاں زیادہ ہے وہاں زیادہ خرچ کیا جائے گا اور ہمیشہ یہی ہوتا رہا ہے۔پس اب صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ بیرونی دنیا کا چندہ پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان کے چندوں سے اب خدا کے فضل سے بہت بڑھ چکا ہے اور عین اس وقت یہ برکت ملی ہے جب کہ