خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 998 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 998

خطبات طاہر جلد 15 998 خطبہ جمعہ 27 دسمبر 1996ء رپورٹ پیش ہوئی تو میرے دل میں ایک ہیجان برپا ہو گیا کہ ہوا کیا ہے۔اب آپ سوچیں پہلی بات تو یہ دیکھیں کہ خدا تعالیٰ نے ہر چندے میں ، ہر ملک میں برکت ڈالی ہے اور امسال گزشتہ سال کے مقابل پر بہت زیادہ عطا کیا ہے۔وعدہ جات کے لحاظ سے جو 1996 ء کے وعدہ جات ہیں وہ چار کروڑ بیس لاکھ اکتالیس ہزار تین سو باون روپے بنتے ہیں۔1996 ء کا یہ جو سال گزرا ہے ابھی ، وعدہ جات چار کروڑ اور بہتیں لاکھ۔وصولی سات کروڑ بائیس لاکھ ستائیس ہزار آٹھ سو چھپن۔اب یہ کیسے ہو گیا کچھ سمجھ نہیں آ رہی کیونکہ وقف جدید کے وعدے آگے ہوتے تھے وصولی پیچھے پیچھے جایا کرتی تھی اور سٹرلنگ میں یہ وعدے چھ لاکھ پچپن ہزار ایک سو بہتر پاؤنڈ تھے جب کہ کل وصولی دس لاکھ چورانوے ہزار تین سو اکسٹھ پاؤنڈ ہے اور ایک نیا سنگ میل جو اس سال رکھا گیا ہے وہ امریکہ کی طرف سے ہے۔تمام دنیا کی وصولی ، سارے یورپ کی وصولی ملا کر ، پاکستان ، ہندوستان، بنگلہ دیش کی وصولی ملا کر دس لاکھ چورانوے ہزار تین سوا کسٹھ پاؤنڈ ہے۔اب یا درکھ لینا اچھی طرح ساری دنیا کی وصولی دس لاکھ چورانوے ہزار تین سو اکسٹھ پاؤنڈ ہے۔اس میں سے امریکہ کی وصولی اس میں پانچ لاکھ چونسٹھ ہزار ایک سوا کسٹھ پاونڈ ہے یعنی تمام دنیا کے چندوں سے وہ اکیلا آگے بڑھ گیا ہے۔پچھلے سال میں ان کی تعریف کر رہا تھا کہ انہوں نے جرمنی کو بھی شکست دے دی، پاکستان سے بھی کچھ کچھ آگے نکل گئے لیکن قریب قریب کی دوڑ تھی۔اب وہ اتنا پیچھے چھوڑ گئے ہیں کہ باقی لوگ اب بس ان کے لئے دعائیں ہی کریں گے اور اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کر سکتے اب اور امریکہ کی اپنی کیفیت یہ ہے کہ آج سے دس سال پہلے یعنی میری ہجرت کے آنے کے دو سال بعد تک بلکہ تقریباً تین سال بعد تک ان کا کل چندہ سارے امریکہ کا اتنا ہی تھا جتنا آج وقف جدید کا ہے اور جب انہوں نے بتایا تو میں نے فورا پوچھا میں نے کہا مجھے تو جہاں تک یاد پڑتا ہے نو لاکھ چھتیس ہزار ڈالر آپ کا کل چندہ بھی نہیں تھا۔تو پھر امیر صاحب نے اس کو با قاعدہ جائزہ لے کر اعدادو شمار کا اس بات کی تائید کی ہے، اس کی توثیق فرمائی ہے کہ ہمارا کل چندہ دس سال پہلے اتنا نہیں تھا اور یہ توفیق کیسے بڑھی۔سوال یہ ہے کہ یہی لوگ تھے ، اسی قسم کے لوگ تھے جو پہلے بھی امریکہ میں رہا کرتے تھے، مالی حالات بعض دفعہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ وقت کے ساتھ بڑھیں بعض دفعہ پیچھے بھی چلے جاتے