خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 386 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 386

خطبات طاہر جلد 14 386 خطبہ جمعہ 2 / جون 1995ء ہے کہ ہر مضمون کا صفات باری تعالیٰ سے تعلق ہے۔تمام نظام کائنات صفات باری تعالیٰ سے پھوٹتا ہے اور کوئی بھی قانون قدرت ایسا پیش نہیں کیا جا سکتا جس کا کسی اسم الہی یا صفت الہیسے تعلق نہ ہو۔تو نظام جماعت بھی صفات باری تعالیٰ ہی کا ایک انعکاس ہے اور وہ اسی وقت تک زندہ ہے اور اسی وقت تک روحانی ہے جب تک صفات باری تعالیٰ سے ایک رسی نہیں بلکہ حقیقی تعلق قائم رکھتا ہے۔اس ضمن میں میں گزشتہ خطبے میں جو سلام کی بات کر رہا تھا اسی سے متعلق میں چند مزید باتیں کہوں گا۔سلام “ سے مراد ہے مکمل امن، کسی قسم کا خوف نہیں تسکین قلب ، طمانیت قلب ، ہر وہ چیز جو ہر خوف سے آزاد کر دے اور آزاد اپنی ذات میں بھی اور اندرونی اندیشوں اور بیجانوں سے آزاد کر دے۔اس کا اصل کامل نام سلام “ ہے۔اور سلام کا لفظ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور ذات پر اطلاق نہیں پاسکتا کیونکہ ایک خدا ہی ہے جو ہر خوف سے پاک ہے اور ہر ضرورت سے پاک ہے۔اس لئے اس کو کوئی خطرہ نہیں کہ کبھی کوئی چیز مجھے چھوڑ کے چلی جائے اور مجھ میں کمزوری واقع ہو جائے گی۔اسی طرح وہ صفات کے لحاظ سے بھی کلیۂ امن میں ہے کیونکہ اس کی صفات میں کبھی کوئی ایسی تبدیلی پیدا نہیں ہو سکتی جو ایک پرانے خدا کو ایک نئے خدا سے جدا کرنے والی ہو اور یہ کہا جاسکے کہ پہلے تو یہ صفت اس میں بڑی قوت کے ساتھ پائی جاتی تھی اب اس میں کمی واقع ہوگئی اور یہ وہ چیز ہے جو میں نے پہلے بھی بیان کی تھی اللہ کو مانے سے پاک قرار دیتی ہے اور زمانے سے بالا قرار دیتی ہے۔ہر دوسرا شخص چاہے بڑی سے بڑی قوت کا مالک ہو اس کی قوت میں انحطاط ہے وہ ایک وقت تک عروج کر رہا ہوتا ہے اور اس عروج کے بعد پھر انحطاط پذیر ہو جاتا ہے۔جب وہ عروج کر رہا ہوتا ہے تو اس کا ماضی نامکمل رہتا ہے اور ہمیشہ انسان واپس دیکھ کر یہ کہ سکتا ہے کہ میں تو اتنا کمزور تھا، اتنا کمزور تھا، اتنا کمزور تھا اور رفتہ رفتہ مجھے میں یہ طاقتیں آئیں تو میں مکمل ہوا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی تکمیل محض ایک نسبتی چیز ہے وہ کبھی بھی مکمل نہیں ہوسکتا۔جو رفتہ رفتہ ترقی کر کے طاقت پکڑتا ہے۔وہ ایک ایسی منزل کی طرف رواں ہے۔جس کا اسے کوئی علم نہیں کہ کمال کہاں ہے اور کس مقام پر جا کر کمال حاصل ہو گا اور کمال سے پہلے اس کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔پس ہر چیز یا بلند ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے یا زوال پذیر دکھائی دے رہی ہے روز کا سورج بھی ہمیں یہی پیغام دیتا ہے۔پس نہ سورج کے لئے امن ہے نہ انسانی طاقتوں کے لئے امن ہے جو رفتہ رفتہ ترقی بھی کرتی ہیں اور پھر تنزل بھی