خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 387
خطبات طاہر جلد 14 387 خطبہ جمعہ 2 / جون 1995ء اختیار کرتی ہیں مگر ایک خدا کی ذات ہے جو زمانے کے ان تأثرات سے بالا ہے اور اسے زمانے کی تبدیلیاں چھو نہیں سکتیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سلام کی تفسیر میں یہ لکھا ہے کہ سلام وہی ذات ہے جو ہر خطرے سے پاک ہو۔اندرونی خطرہ ہو یا بیرونی خطرہ ہو۔اندرونی خطرے کی بات میں نے کھول دی ہے۔بیرونی خطرے کے لحاظ سے جب تک وہ قادر اور توانا نہ ہو وہ سلام نہیں ہوسکتا۔جب تک اسے قدرت نہ ہو کہ اگر کوئی چیز اس سے روگردانی کرتی ہے تو وہ اس سے بہتر پیدا کر سکتا ہے اور اگر نہ بھی پیدا کرے تو وہ اپنی ذات میں اس کا محتاج نہیں ہے۔جب تک یہ نہ ہو اس وقت تک وہ ذات سلام نہیں کہلا سکتی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو سلام کی تعریف فرمائی ہے اس میں حقیقت میں بہت سی دوسری صفات جلوہ گر دکھائی دیتی ہیں۔ایک لفظ ”سلام “ میں بکثرت خدا تعالیٰ کی دوسری صفات تعلق رکھتے ہوئے اپنے جلوے دکھاتی ہیں اور اسلام کو سمجھنا ہو تو سلام “ کو اس پہلو سے سمجھنا ضروری ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا اسلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ ( البقرہ:132) اے ابراہیم سلام ہو جا، سلامتی میں آجا۔اسلیم اپنے آپ کو میرے سپرد کر دے۔یہ دونوں معنی ایک لفظ اسلم میں شامل ہیں۔اسلم کا مطلب ہے سلامتی میں آجا اور دوسرا مطلب ہے اپنے آپ کو میرے سپر د کر دے۔عموماً جولغات ہیں وہ یہ دونوں معنی الگ الگ بیان کرتی ہیں۔سلام کا ایک مطلب ہے امن اور ایک مطلب ہے سپردگی۔حالانکہ ایک ہی معنی ہے اس میں دونوں معنی موجود ہی نہیں، ایک معنی کے دو پہلو ہیں۔کوئی ذات امن میں آہی نہیں سکتی جب تک اپنے آپ کو اللہ کے سپرد نہ کر دے اور وہ ذات کو سلام ہے اس کی حفاظت کے بغیر کوئی نہ کوئی پہلو انسان کا ایسا ہے جہاں سے وہ خوفزدہ رہے گا۔صرف سلام ذات ہے جو ہر پہلو سے خوف کے خلاف ایک ایسا قلعہ ہے جس کے اندر خوف داخل ہو ہی نہیں سکتا۔ایسا ایک مضبوط حصار ہے جس کے اندر خوف کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔پس جب تک سلام کے ساتھ ایسا تعلق نہ ہو کہ انسان اس کے سپر د اپنے آپ کو کر دے اس وقت تک ہر قسم کے خوف رہتے ہیں اور جتنا زیادہ کوئی سلام کے اندر یعنی اپنے سر کو جھکاتے ہوئے