خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 955
خطبات طاہر جلد 14 955 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 1995ء خلافت احمدیہ کی ضرورت پر ایک نشان ہے ، ایک دلیل ہے ،ایک برھان ہے جس کا کوئی جواب نہیں۔نہ عقلی طور پر ، نہ مثال کے طور پر۔دنیا بھر میں کسی آواز کو خدا نے وہ طاقت نہیں بخشی کہ وہ آواز اٹھے تو ساری دنیا کے کونے کونے سے نہ صرف زبانیں تائید کا اقرار کریں،اطاعت کا اقرار کریں بلکہ سارا جسم ، سارا وجود اس کی تائید میں اپنے آپ کو اس طرح پیش کر دے جیسے وہ آدم کو سجدہ کرنے والا مضمون ہو یعنی شرک سے ہٹ کر جو سجدہ بھی آدم کو جائز ہے وہ سجدہ خلافت سے تعلق رکھتا ہے اور انہی معنوں میں میں نے یہ مثال دی ہے اور خلافت احمد یہ حقہ کے لئے لازم تھا کہ خدا طبیعتوں میں وہی میلان سجدہ پیدا فرمائے جو آدم کے لئے ان معنوں میں تھا کہ چونکہ خدا کی آواز کی پیروی کر رہا ہے اس لئے اس کی اطاعت کرو۔تو یہ ہمارا تجربہ اتنا وسیع ہے، پچھلے خطبہ میں مجھے یاد ہے جب وہ خطبہ دیا تھا جس میں کینیڈا کو بیدار کرنے کی کوشش کی تھی جھنجھوڑا تھا ، اس پر اس کثرت سے خط آئے ہیں مردوں ، عورتوں اور بچوں کے کہ میں حیران ہو جاتا ہوں دیکھ کر ، وہ کہتے ہیں ہم سے کوتاہی ہوئی جو سابقہ غفلتیں تھیں ان کو معاف کیا جائے ، اب تو ساری جماعت میں ایک قسم کی سنسنی سی پھیل گئی ہے۔ہر چھوٹا بڑا تبلیغ کے رستے ڈھونڈھ رہا ہے اور بہت ہیں جو تبلیغ میں مصروف ہو چکے ہیں۔تو اس پہلو سے مکرم امیر صاحب جرمنی عبداللہ واگس ہاؤزر صاحب کا مشورہ بالکل درست ہے لیکن یہ حسن اتفاق کہہ لیں یا تصرف الہی کہ جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے یہ پہلے سے منتخب شدہ آیات تھیں یعنی ان کی باری ان آیات میں یہیں تھی جہاں یہ اس وقت موجود ہیں۔گزشتہ جو سلسلہ جاری ہے نور کے خطبات کا اس میں جن آیات کو میں نے ترتیب دے رکھی تھی ان میں آج یہی آیت میرے پیش نظر تھی اور اسی آیت میں تبلیغ کا ذکر ہے اور اس آیت کے حوالے سے خواہ امیر صاحب جرمنی مجھے توجہ دلاتے یا نہ دلاتے مجھے لازماًیہ ذکر کرنا ہی تھا۔پس اس پہلو سے میں اب اس آیت کی طرف لوٹتے ہوئے اس کا مضمون آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں۔پہلی آیت جو ہے وہ تو اس امر سے تعلق رکھتی ہے کہ کوئی ایسا شخص جس کو اسلام کی طرف بلایا جارہا ہو اور وہ خدا پر جھوٹ بھی بول رہا ہو وہ کامیاب ہو ہی نہیں سکتا، لازما وہ ظالم ہے۔پس اگر ایک شخص خدا کی طرف بلا رہا ہو اور کہہ رہا ہو کہ خدا نے مجھے بھیجا ہے خدا مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے اور لوگ اسے کہیں مسلمان ہو جاؤ، مسلمان ہو جاؤ تم مسلمان نہیں ہو اور وہ اپنے اس دعوے پر قائم رہے اگر وہ