خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 90
خطبات طاہر جلد 14 جاتے ہیں، کچھ بھی فائدہ ان کو نہیں ہوتا۔90 90 خطبہ جمعہ 3 فروری 1995ء لیکن وہ بندھن اگر خدا کی محبت کے بندھن میں تبدیل ہوں اور اس وجہ سے ہوں۔اللہ کی خاطر ایک انسان اپنے آپ کو پابند کر رہا ہے اور اس کی محبت کی خاطر کر رہا ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔پھر وہ عبد بنتا ہے ، پھر وہ غلام ہوتا ہے ورنہ روزمرہ کی ٹکسالی کے طور پر کام کرنے والے کہاں غلام ہوتے ہیں۔پس اس معنے میں ان کی تربیت کریں، ان کو سمجھا ئیں اور پھر چھوٹے موٹے روزمرہ کے رمضان کے آداب بھی تو بتائیں۔روزے کیسے رکھے جاتے ہیں۔کیوں رکھے جاتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے اس سلسلے میں جو نصیحتیں فرما ئیں ان سے کچھ ان کو آگاہ کریں تو رفتہ رفتہ ان کی تربیت ہوگی اور اگر ان کو یہ تجربہ رمضان میں ہو گیا کہ ان کو لیلتہ القدر نصیب ہوگئی یعنی وہ رات آئی ہے جو رات کہلاتی ہے مگر سب سے زیادہ منور ہے اور سب سے زیادہ دائگی روشنیاں پیچھے چھوڑ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہو سکتا ہے وہ آپ کو سنبھالنے والے بن جائیں، آپ کو ان کو سنبھالنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ایسے لوگ میں نے دیکھے ہیں جب ان کی احمدیت میں ان میں انقلاب بر پا ہو جاتا ہے وہ ہر ابتلاء سے اوپر نکل جاتے ہیں کوئی ٹھو کر ان کے لئے ٹھو کر نہیں رہتی وہ یہ نہیں کہتے کہ دیکھو جی فلاں یوں کر رہا ہے۔انہوں نے ہمیں احمدیت دی، اپنا یہ حال ہے۔وہ اپنے آپ کو خدا کا ان سے بہتر نمائندہ سمجھنے لگتے ہیں اور ان کی فکر کرتے ہیں، ان کی تربیت کرتے ہیں ، ان کو سمجھاتے ہیں۔ایسے لوگ ہیں جن کی آج ہمیں ضرورت ہے دنیا کو سنبھالنے کے لئے۔اگر ایسے ہی رہنے دیا گیا کہ ہر وقت آپ ہی نے ان کو سنبھالے رکھنا ہے تو آپ کی طاقت میں تو یہ سنبھالنا بھی نہیں انہوں نے پھر آگے دنیا کو کیا سنبھالنا ہے اس لئے رمضان سے یہ فائدہ اٹھائیں۔میں چند احادیث جتنا بھی وقت ہے آج آپ کے سامنے رکھتا ہوں باقی انشاء اللہ آئندہ خطبے میں، میں بیان کروں گا اور اس مضمون کو آگے بڑھاؤں گا۔حضرت ابوھریرہ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص جھوٹ بولنے اور جھوٹ پر عمل کرنے سے اجتناب نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اب یہ دو باتیں ہیں جو بیان فرمائی گئی ہیں۔جھوٹ بولنے سے اور جھوٹ پر عمل کرنے سے ان میں کیا فرق ہے۔بعض لوگ تو عادتاً جھوٹ بول دیتے ہیں۔ایک بات یہ کہ اس کا خاص مقصد