خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 89

خطبات طاہر جلد 14 89 خطبہ جمعہ 3 فروری 1995ء تعلق میں کہ بندہ چھوڑنا بھی چاہے تو خدا ہاتھ نہیں چھوڑتا۔بعض دفعہ مصافحے میں میں نے دیکھا ہے بعض لوگ جو زیادہ ہی پیار کا اظہار کرنا چاہیں یہ بھی نہیں دیکھتے کہ کتنے لوگ مصافحے والے کھڑے ہیں ہاتھ میں ہاتھ آجائے تو چھوڑتے ہی نہیں۔بڑی مشکل سے انگلیاں ( یوں یوں کر کے ) نکالنا پڑتا ہے ہاتھ۔تو یہ تالیف قلب کا دور بھی اسی طرح کا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے نئے آنے والوں پر اتنا مہربان ہوتا ہے کہ بندوں کو بھی حکم ہے کہ ان کی تالیف قلب کرو۔یہ ذرا دل جیتنے کے محتاج لوگ ہیں اور خود بھی تالیف قلب فرماتا ہے اور حیرت انگیز طور پر بعض دفعہ ان کو نشان دکھاتا ہے۔تو جب اس ہاتھ کی عادت پڑ جائے گی تو پھر یہ بھی نہیں چھوڑ سکیں گے لیکن جب تک یہ ہاتھ اس ہاتھ میں نہ آجائے جو خدا کا ہاتھ کہلاتا ہے اس وقت تک آپ کے ہاتھوں میں تو محفوظ نہیں ہیں۔آج ہے کل ہاتھ سے نکل جائے گا۔آپ کو کب توفیق ہے کہ سارا دن تمام سال بھر آپ روزانہ ان کی فکر کریں مہینے میں ایک دو دفعہ بھی فکر کا آپ کے پاس وقت نہیں رہتا اب تو رفتار بھی بہت پھیل چکی ہے۔لکھوکھا کی تعداد میں لوگ احمد بیت قبول کر رہے ہیں اور ہر قوم سے، ہر مذہب سے، ہر زبان بولنے والوں میں سے آرہے ہیں تو ان کو آپ کیا سمجھا ئیں گے کیسے کیسے ان کی طرف تو جہات کا حق ادا کریں گے ایک ہی طریقہ ہے کہ خدا کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ تھما دیں اور رمضان مبارک میں یہ کام ہر دوسرے دور سے زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔اس ضمن میں ان کو روزے رکھنے کی تلقین کریں۔روزے رکھنے کے سلیقے سکھائیں۔ان کو بتائیں کہ اس طرح دعائیں کرو اور اللہ دعاؤں کو سنتا ہے لیکن اس سے عہد باندھو کہ تم اس کو چھوڑو گے نہیں۔اصل مقصد مذہب کا خدا سے ملانا ہے۔اگر کوئی مذہب باتیں سکھا جاتا ہے اور قیدوں میں مبتلا کر جاتا ہے مگر خدا کا قیدی نہیں بناتا تو ایسے مذہب کا کیا فائدہ۔جتنے زیادہ بندھن ہوں اتنا ہی وہ مذہب مصیبت بن جاتا ہے لیکن اگر وہ بندھن خدا کی محبت کے بندھن ہوں تو پھر وہ مصیبت نہیں وہ رحمت ہی رحمت ہے، وہ عشق کے بندھن ہونے چاہئیں۔پس ہر وہ شریعت جس پر عمل ظاہری ہو وہ ایسی غلامی کے بندھن ہیں جن کے ساتھ اللہ کی محبت کا تعلق نہیں ہے۔ایسے لوگ خواہر پرست ہو جاتے ہیں، ظاہری چیزوں کے غلام ہو جاتے ہیں ان کی شریعت ان کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچاتی۔کورے کے کورے سخت دل کے سخت دل ، انسانیت کی اعلی قدروں سے عاری اس دنیا سے گزر