خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 91

91 خطبہ جمعہ 3 فروری 1995ء خطبات طاہر جلد 14 حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ صرف اپنی شیخی ہوتی ہے بعض دفعہ۔بعض دفعہ دلچسپ بات کرنے کا شوق ان سے جھوٹ بلواتا ہے جو واقعہ نہیں ہوا ہوتا وہ اپنی طرف اپنے تجارب کی طرف منسوب کر دیتے ہیں لیکن اس کے نتیجے میں دوسرے کو صرف اتنا دھو کہ لگتا ہے کہ آدمی بڑا ہوشیار ہے مگر اور نقصان نہیں اتنا کہ پہنچتا۔مگر یہ جھوٹ یہاں نہیں رہا کرتا جو شخص ایسا جھوٹ بولے پھر وہ جھوٹ اس کے عمل میں داخل ہوتا ہے اور اس کی ساری زندگی کو جھوٹا بنادیتا ہے وہ کمائی جھوٹ کی کرتا ہے وہ خطروں سے بچتا ہے تو جھوٹ کی پناہ میں آکر بچتا ہے۔وہ تمنائیں کرتا ہے تو اس کی تمناؤں میں جھوٹ اس کا مددگار بن جاتا ہے اور اس کے اعمال میں رچ بس جاتا ہے۔یہ وہ جھوٹ ہے جس کی طرف حضرت اقدس صلى الله محمد رسول اللہ ﷺ نے توجہ دلائی کہ رمضان میں اس بد بخت چیز کو چھوڑو اور اگر اس کو نہیں چھوڑو گے تو یہ رمضان تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔فرمایا اللہ کو کیا دلچسپی ہے کہ تم بھوکے رہو۔رہو نہ رہو خدا تو رازق ہے، خدا تو احسان کرنے آیا ہے۔بھوک اگر کسی نیکی کا پیش خیمہ بنتی ہے، اگر بھوک خدا کی خاطر ہے اور اس کے نتیجے میں اللہ سے کوئی تعلق باندھتی ہو تو پھر یہ بھوک پیاری ہے ورنہ فی ذاتہ بھوک کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔تو آنحضرت ﷺ کی اس نصیحت کو پکڑیں اور اس نصیحت سے اپنے سفر کا آغا ز کریں کیونکہ اکثر جو نو مبائعین ہیں ان کو تو میں نے سچا ہی دیکھا ہے خصوصاً یورپ میں۔اکثر لوگ سچ کے ہی عادی ہیں۔یہ بدقسمتی ہے بعض تیسرے درجے کی دنیا کی جس میں افریقہ بھی شامل ہے پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش۔ایسے لوگ ہیں بڑا ہی جھوٹ بولتے ہیں اور روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں جھوٹ کا سہارا لئے بغیر آگے بڑھ ہی نہیں سکتے۔ان کے سیاستدان بھی جھوٹے ،ان کے پولیس کارندے بھی جھوٹے ، ان کی سول سروس والے بھی جھوٹے ، ان کے تقویٰ انصاف قائم کرنے والے بھی جھوٹے ، ان کے مانگنے والے بھی جھوٹے ، ان کے دینے والے بھی جھوٹے۔اتنا جھوٹ ہے کہ ایسی وبا جھوٹ کی شاید ہی دنیا میں کبھی کسی دنیا پر بلا کے طور پر اتری ہو۔تو رمضان کا مہینہ ہے سب سے پہلے وہ لوگ جو ایسے ملکوں سے یہاں آئے ہیں یا دوسرے ملکوں میں گئے ہیں جہاں جھوٹ نہیں ہے وہ پہلے اپنے نفس کی تو اصلاح کرلیں۔بھوکے رہیں گے اور جھوٹ بھی بولیں گے تو بھوکے رہنا سب کچھ