خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 934
خطبات طاہر جلد 14 934 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء آمَنُوا بِاللَّهِ وَاعْتَصَمُوا بِہ پس وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لائیں اور مضبوطی سے اسے پکڑیں فَسَيُدْ خِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِنْهُ پس ضرور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا وَفَضْل اور فضل میں وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا اور انہیں اپنی طرف سیدھی راہ پر ڈال دے گا جو خدا ہی کی طرف جاتی ہے تو صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا سے پہلے کے بعض شرائط کا ذکر ہے کہ یہ شرطیں پوری ہوں ، یہ مقاصد حاصل ہوں تو مقصد اول اور سب سے اعلیٰ مقصد یہی ہے کہ تم اس رستے پر پڑ جاؤ جو سیدھا خدا کی طرف جاتا ہے۔ یہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو ترجمہ پیش فرمایا ہے اس میں صلى الله آنحضرت ﷺ کو بھی اللہ کا نور قرار دیا ہے اور قرآن کریم کو بھی اللہ کا نور قرار دیا ہے اور ۔ ہے اور یہی انداز قرآن کریم کا دوسری بہت سی جگہوں پر ہے جسے اچھی طرح سمجھنا چاہئے ۔ بارہا جہاں میں نے عام ترجموں سے میں نے اختلاف کیا ہے وہاں یہی وجہ ہے کیونکہ میرے نزدیک جب ضمیر کھلی چھوڑ دی گئی ہو، یعنی انگلی اٹھ رہی ہو ایک آیت کی اور جس طرف اٹھتی ہے وہاں قرآن بھی موجود دکھائی دیتا صلى الله ۔ صلى الله ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ بھی دکھائی دیتے ہیں تو یہ کہنا کہ یہ قرآن کی طرف ہے محمد رسول اللہ ﷺ کی صلى الله طرف نہیں ہے یا محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے قرآن کی طرف نہیں ہے، یہ درست نہیں ہے۔ لازماً ، دونوں کی طرف ہی انگلی اٹھی ہے اور دونوں اس اشارے میں شامل ہیں اور آیات کا مضمون جو بعد میں کھلتا ہے اس بات کا قطعی ثبوت مہیا کرتا ہے کہ قرآن کریم اور محمد رسول اللہ ﷺ میں بسا اوقات صلى الله قرآن کریم بھی کوئی فرق نہیں کرتا اور ایک ہی اشارے میں دونوں کو شامل فرما لیتا ہے ۔ پس یہ آیت انہی آیات میں سے ایک ہے۔ و حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام كرامات الصادقین صفحہ 14 پر لکھتے ہیں۔ اس کا ترجمہ یوں ہے پھر ہم بقیہ آیات کریمہ کا ترجمہ کر کے لکھتے ہیں“ آپ یہ فرمارہے ہیں اس آیت کی طرف آتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ قرآن اور رسول ﷺ ایک نور ہے۔ صلى الله اب دیکھیں بظاہر اردو میں غلطی دکھائی دے رہی ہے قرآن اور رسول ﷺ ایک نور ہیں چاہئے تھا مگر فرما رہے ہیں یہ قرآن اور رسول ایک نور ہے مراد یہ ہے دونوں میں کوئی فرق نہیں الله کیا جا سکتا ، ناممکن ہے کہ نور قرآن میں کوئی ایسا پہلو ہو جو محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں جھلکتا ہوا نہ