خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 918
خطبات طاہر جلد 14 918 خطبه جمعه 8 دسمبر 1995ء ہیں۔ بے اختیار ، بے ساختہ پھوٹنے والا درود ایک ایسے دل سے نکلا ہے جس نے فیض پایا اور یہ کہتا ہے کہ: دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے تو درود سے پہلے کچھ تیاری بھی تو ہونی چاہئے اور درود کی حکمت یہ ہے کہ انسان اپنی ذات میں محمد رسول اللہ ﷺ کا احسان ایک تجربے کے طور پر محسوس کرے ورنہ کروڑ بار بھی ایک شخص دن درود پڑھتا ر ہے اس کے کچھ بھی معنی نہیں ۔ درود کا تعلق احسانات سے ہے اگر احسانات سے تعلق نہ ہوتا تو آنحضرت ﷺ پر سب نبیوں سے زیادہ درود بھیجنے کا حکم نہ ملتا۔ براہ راست احسانات رات صلى الله سے درود کا تعلق اس طرح ثابت ہے کہ انبیاء کی مجلس میں سب سے بڑے محسن نبی حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اور پھر آپ کے بعد اور آپ سے افضل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تھے اور درود نے دونوں کا رشتہ باندھ دیا۔ پس وہ جو محسن ہو اس پر درود پڑھا جاتا ہے مگر احسان ہو تو پھر درود دل سے نکلتا ہے ورنہ خیالی باتیں ہیں ۔ ایک آدمی کسی امیر کو دیکھ کر یا کسی دنیا کی بڑی شخصیت کو دیکھ کر ویسے بھی دعائیں کر دیا کرتا ہے کہ اللہ کرم کرے بہت بڑا آدمی ہے۔ بہت لجاجت کی باتیں کر کے اس کا دل خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر کہاں وہ آواز ، کہاں وہ آواز جو ایک بھوکے کو کھانا کھلانے کے نتیجے میں اس کے پیٹ سے نہیں اس کے دل سے اٹھتی ہے اور بے ساختہ اٹھتی ہے۔ وہ دعا ئیں رنگ ہی اور رکھتی ہیں ۔ وہ دعا ئیں اشک بار ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ آہوں کی ہوائیں چلتی ہیں اور یہ ہے درود کا انداز جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نوروں کے حوالے سے ہمیں سمجھا دیا۔ لازماً آپ نے بہت کچھ پایا اور نہ بے اختیار یہ بات نہ نکلتی : مصطفیٰ پر تیرا ہو بے حد ہو سلام اور رحمت اس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے ربط ہے جان محمد سے میری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے ( در ثمین : 16) فرمایا جس نے خدا سے ملا دیا، جس سے ملنا خدا سے ملنا ہے اس سے ایک لمحہ بھی تعلق توڑو الله گے تو خدا سے تعلق ٹوٹے گا۔ پس بیک وقت محمد رسول اللہ ﷺ سے تعلق رکھنا اور اللہ تعالیٰ سے تعلق