خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 917
خطبات طاہر جلد 14 917 خطبہ جمعہ 8 /دسمبر 1995ء اور اسلام اور آنحضرت ﷺ کے عشق میں لکھی ہوئی یہ نظم دو الگ الگ چیزوں کے طور پر پیش نہیں کرتی۔آنحضور اور اسلام کے حوالے آپس میں اس طرح مل گئے ہیں کہ ایک ہی وجود کے گویا دو نام رکھ کر بات کی جارہی ہو، فرماتے ہیں: آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے (در نمین: 16) پس وہ روشنی جس کی بات میں کر رہا تھا اب پھر کر رہا ہوں وہ تمام صفات حسنہ سے محبت اور تمام صفات حسنہ کو اپنانا ہے۔یہ نہیں آپ کہہ سکتے کہ کچھ صفات ہم چھوڑ دیں گے تو ہم وہ مثال بن جائیں گے جس کا قرآن کریم میں ذکر فرمایا گیا ہے۔اس مثال میں تمام صفات میں سے کچھ نہ کچھ پانا لازم ہے اور اس کے بغیر معہ“ کا مقام عطا نہیں ہوسکتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جونور پائے ، وہ فرماتے ہیں کہ اسلام سے پائے اور محمد رسول اللہ ﷺ سے پائے ، آپ فرماتے ہیں: دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں (در متین : 16) یہاں جا کے بات کھول دی کہ یہ محمد مصطفی ﷺ ہی کے نور سے ملا ہے۔ذات سے حق کی وجود ملایا ہم نے آنحضرت ﷺ کے صلہ ہونے کو اس سے بہتر الفاظ میں بیان نہیں فرمایا جاسکتا۔آپ وسیلہ کیسے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ذات اور بندے کے درمیان وہ کیسا جوڑ ہے جو محمد رسول اللہ یہ قائم فرماتے ہیں۔اس جوڑ کی تشریح ہے کہ: جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں۔ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے مصطفیٰ پر تیرا بے حد ہو سلام اور رحمت اس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے ( در مین: 16) بے اختیار درود اٹھتا ہے پھر ، بے اختیار دل سے سلام اٹھتا ہے اور اس وجود سے جس نے کچھ پایا ہو۔فقیر کے دل سے بھی دعائیں نکلتی ہیں مگر جب خیرات ملتی ہے تو دعائیں نکلتی