خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 919
خطبات طاہر جلد 14 919 خطبہ جمعہ 8 /دسمبر 1995ء رکھنا یہ شرک نہیں ہے بلکہ توحید کامل کا درس ہے۔اس میں چند شعروں میں سب مضامین اکٹھے کر دیئے ہیں۔فرمایا اس لئے میرے دل سے دعا نکلتی ہے کہ اس وجود نے خدا سے ملا دیا اور جس وجود سے ملنا خدا سے ملنا ہو اس وجود سے ایک لمحہ بھی جدائی برداشت نہیں ہوسکتی کیونکہ جہاں جس پہلو سے آپ نے محمد رسول اللہ ﷺ سے تعلق کاٹا اس پہلو سے خدا سے تعلق کٹ جائے گا اور یہ کوئی فلسفیانہ بات نہیں۔ایک اتنی گہری حقیقت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خبر دی کہ ماں سے بھی جو تعلق کا تھا ہے اس سے خدا تعلق کاٹ لے گا کیونکہ رحمی رشتے کے ذریعے خدا سے تعلق قائم ہوتا ہے اور رحم کا تعلق اللہ کی ذات کی صفت رحمانیت سے بھی ہے۔پس اگر عام ماؤں سے تعلق کاٹنے سے یا ماؤں سے پیدا شدہ رشتوں سے تعلق کاٹنے سے اللہ سے تعلق کٹ جاتا ہے تو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ سے ادنی سا تعلق کاٹنے سے بھی کیا کچھ نہ ہوگا۔لازما وہیں سے علیحدگی کا مضمون شروع ہو جاتا ہے اور علیحدگی میں یا درکھیں کہ علیحدگی اس مقام تک محدود نہیں رہا کرتی جہاں سے علیحدگی شروع ہو۔ایک دفعہ جب تعلق کے بعد بے تعلقی ہو جائے تو پھر انسان اکھڑ نے لگتا ہے اور ہر چیز ا کھڑ نے لگتی ہے۔پس جان محمد اللہ سے ایک دفعہ ربطہ ہو چکا ہو تو اس علیحدگی کا تصور بھی انسان کے دل میں نہیں آسکتا۔ورنہ جس طرح جلد کو مائع کھدی ہو جانے کے نتیجے میں کاغذ چھوڑتا ہے جب ایک دفعہ چھوڑ نا شروع کرے تو پھر چھوڑتا چلا جاتا ہے۔جہاں سر میں گنج شروع ہو جائے پھر وہ باقی بال بھی گرنے لگ جاتے ہیں۔جہاں دیوار میں اکھڑنے لگیں تو پھر عمارت ہی اکھڑ جایا کرتی ہے۔تو ربط کے بعد بے ربطگی بہت ہی بڑا ظلم ہے اور اس کے بعد پھر خطرہ ہے کہ انسان اپنی ہلاکت کی آخری منزل تک پہنچ جائے۔پس جو تعلق بھی نیکی سے باندھا جائے، جو تعلق بھی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ سے قائم کیا جائے وہ نور سے تعلق ہے۔جیسا کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے واضح فرمایا ہے اور نور سے ایسا تعلق ہے جس کے چھپنے اور اس سے الگ ہونے کا پھر کوئی تصور نہیں پیدا ہوسکتا۔ہول اٹھنے چاہئیں دل میں کہ ایک تعلق قائم ہو اور پھر وہ علیحدہ ہو جائے کیونکہ آگے تنزل کی بہت راہیں ہیں جو أَسْفَلَ سَفِلِينَ (التين : 6) تک بھی انسان کو پہنچادیتی ہیں۔بہت سے حوالے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیش کرنے ہیں اور اس حوالے سے بات کو اور زیادہ سمجھانا ہے مگر اب میں پہلے حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی ایک