خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 912
خطبات طاہر جلد 14 912 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 1995ء گا۔ان کی پیاس پہلے سے زیادہ کرتا چلا جائے گا اور یہ لا متناہی سفر جو ہے وہ چونکہ ہمیشہ نئی منزلوں کی طرف ہے، نئے نئے حسن کے نظاروں کی طرف ہے اس لئے کبھی بور نہیں ہوسکتا۔خدا کے حجاب میں بھی ایسا حسن ہے کہ اس کے سفر میں اگر آپ حرکت میں رہیں اور ایک حجاب سے دوسرے حجاب کی طرف منتقل ہوتے رہیں تو ساری زندگی یہ سفر کریں کبھی ایک لمحہ بھی اکتانے کا نصیب ہو نہیں سکتا، کبھی آپ اکتاہٹ محسوس نہیں کر سکتے۔اور یہ مضمون اسی آیت کی طرف پھر اشارہ کرتا ہے۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ فَبِأَيِّ الَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بْنِ (الرحمن : 31،30) دیکھو خدا تمہاری خاطر کیسے کیسے جلوے دکھاتا چلا جا رہا ہے ، ہر لمحہ اس کی شان بدلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے حالانکہ وہ بدلتا نہیں ہے۔پس دیکھو تو سہی اپنی آنکھیں پیدا کرو اس کے حسن کے نظارے کی پھر یہ تمہاری زندگی کا تمام سفر حسن کا سفر ہو جائے گا اور کبھی ایک لمحہ کے لئے تم اکتا نہیں سکتے ، بور نہیں ہو سکتے۔پس یہ سفر ہے جو اس دنیا میں ہمیں کرنے کا سلیقہ آنا چاہئے اور پھر جنت کے سفر کی اہلیت عطا ہوگی اور اس شرط کو یا رکھو کہ جنت میں کوئی ایسا شخص حضرت محمد ﷺ کی معیت میں چلنے کی توفیق نہیں پائے گا جو آپ کے لئے کسی پہلو سے بھی ندامت کا موجب بنتا ہو۔جو ندامت کے موجب بنتے تھے دنیا میں ہی وہ اپنی معافیاں مانگ چکے ہوں گے۔تب ایسی جنت میں داخل کیے جائیں گے جو کمزوریاں اور داغ رکھتے تھے دنیا میں تَوْبَةً نَصُوحًا کے ذریعے وہ کمزوریاں اور داغ دھونے کے فیصلے کر چکے ہوں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو دھو ہو چکا ہوگا۔اس لئے ایسی موت مانگو جس موت سے پہلے یہ سارے مراحل طے ہو چکے ہوں اور کوئی ایسی کثافت اپنے ساتھ لے کر ہم اس دنیا میں نہ جائیں جو ہمیں محمد رسول اللہ ﷺ کی معیت سے اس لئے محروم کر دے کہ ہمارا ساتھ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے کسی پہلو سے ندامت کا موجب ہو۔یہ نور ہے اور یہ نور کا سفر ہے جسے سمجھنا چاہئے ، جس کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں اور جس طرح آنحضور ﷺ نے اپنی دعا کے ذریعے ہمیں اس نور کے مانگنے کے انداز سکھائے اور نور عطا ہو جانے کے باوجود پھر مزید طلب کی حکمت بھی ہمیں سمجھا دی اور خود ہمیشہ اس کی لامتناہی طریق پر طلب کرتے چلے گئے۔کبھی نہ تھکے نہ ماندہ ہوئے۔یہ مضمون بھی سمجھنا اس لئے ضروری ہے کہ نور کے سفر