خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 911 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 911

خطبات طاہر جلد 14 911 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 1995ء میں۔اندھیروں کے نتیجے میں تو انسان کو اپنی جہالت میں اپنا پتا ہی کچھ نہیں اور اس وجہ سے بعض دفعہ منکسر ہو جاتا ہے اور یہ بات اندھیروں کے انکسار کی ایک تمثیل کی صورت میں بتائی گئی ہے کہ ایک دفعہ ایک شیر کو بھیڑوں کے گلے میں پالا گیا تو وہ بے چارہ اپنے آپ کو بھیڑ ہی سمجھا کرتا تھا اور ہر کتے کے بھونکنے سے ڈر جایا کرتا تھا ، حالانکہ تھا شیر۔تو انکسار وہ کوئی نیکی کا انکسار نہیں تھا وہ جہالت کا انکسار تھا۔اپنے نفس کی معرفت نہیں تھی اس کو کہ میں کون ہوں یہاں تک ایک دفعہ واقعہ ایک شیر گر جاہے تو اس کے اندر کا شیر بھی جاگ اٹھا اور پھر وہ پلٹتا ہے اس کے اوپر حملہ آور ہوکر تو سارے گلے کی حفاظت کا موجب بن گیا۔تو ذات کا عرفان نہ ہونے کے نتیجے میں بعض دفعہ انسان اپنی عظمت سے محروم رہ جاتا ہے۔بعض دفعہ اپنی اصل حقیقت سے محروم ہو جاتا ہے اور جو دوسرا عرفان ہے وہ انکساری پیدا کرتا ہے لا علمی کی وجہ سے نہیں بلکہ پھر کچھ جاننے کے باوجود انسان سمجھتا ہے میں تو کچھ بھی نہیں۔جو کچھ وہاں سے ملا ہے اور جو کچھ ملا ہے وہ مکمل ہوہی نہیں سکتا کیونکہ ذات لا محدود ہے۔جس کے اندر لامتناہی عطا کی قوتیں موجود ہوں اس سے ایک گھونٹ مانگ بھی لیا جائے تو کیا فرق پڑے گا۔اگر سمندر بھی مانگ لو گے تو تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ تمہارا جو ظرف ہے وہ تو محدود ہے مگر عطا کرنے والا محدود نہیں ہے۔پس اس سے مانگو ، اس میں ایک اور مضمون جو محمد رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ کا ظرف بھی بڑھ رہا تھا اور جتنا خدا تعالیٰ کا نور آپ پر جلوہ گر ہورہا تھا آپ کے ظرف کی توفیق بڑھتی چلی جارہی تھی۔سیرابی کی کوئی ایسی منزل نہیں آئی جس میں آپ نے سمجھا ہو کہ جتنا سما سکتا تھا سا چکا ہوں بس اب اس سے زیادہ میں سمیٹ نہیں سکتا۔ورنہ ایک پیالی کو آپ سمندر میں ڈبوئیں اور پھر وہ پیالی اور پانی مانگے تو بالکل بے معنی بات ہے۔وہ پیالی ڈوبے گی۔جتنا بھرنا تھا بھر گئی پھر جب تک وہ الٹے نہ ایک دفعہ اور پانی مانگ نہیں سکتی اور خدا کا نور کب الٹا دیا جاتا ہے وہ تو ہمیشہ کے لئے ساتھ چمٹا کے رکھا جاتا ہے۔پس آنحضرت ﷺ کا ظرف ہمیشہ تدریجا ترقی کر رہا تھا۔جتنا نور عطا ہوتا تھا ظرف بڑھ جاتا تھا اور یہی اہل جنت کی دعا کا مفہوم ہے جو اس مثال سے میں نے آپ پر کھولا ہے۔اہل جنت جو یہ دعا مانگیں گے کہ اے خدا ہمارے آگے بھی نور کر ہمارے دائیں بھی نور کر اور ہمارے نور کو تمام کر الله دے کامل کرتا چلا جا۔یہ مراد ہے سب کچھ عطا ہونے کے باوجود خدا تعالیٰ ان کے ظرف بڑھاتا رہے