خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 913
خطبات طاہر جلد 14 913 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 1995ء میں بعض دفعہ نور ہی ظلمات میں انسان کو غرق کر دیا کرتا ہے۔ایسے شخص کا نور جس میں تکبر پایا جائے ، جس میں محمد رسول اللہ ﷺ کا انکسار نہ ہو اس کا نور بسا اوقات اس کو ہلاکت میں مبتلا کر دیتا صلى اللهم ہے۔ایسے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے جس سے نکلنا اس کے بس میں نہیں رہتا بلکہ اس میں ہمیشہ رہنا اس کی تقدیر بن جایا کرتا ہے۔پس نور کا حصول خود بھی تو خطرات کا ایک مضمون ہمیں دکھا رہا ہے۔ایک خطرات سے پر رستہ بھی دکھا رہا ہے اور یہ نور ہو تو دکھائی دیتے ہیں اور جب نو ر اس درجہ روشن ہو جائے کہ وہ اس رستے کے نقصان اور خطرات بھی دکھانے لگے تو پھر بخشش کی ایک بے ساختہ دعا ہے اور ان معنوں میں حصول نور کے بعد پھر بخشش کی دعا آتی ہے۔پس اپنے لئے نور بھی مانگتے چلو اور بخشش بھی مانگتے چلو اور اس کامل انکسار کے ساتھ آگے بڑھو جہاں ہر منزل کا حصول تمہیں اوپر کے رستوں کو دکھا کر اپنے آپ کے اندر ایک ادنیٰ ہونے کا احساس تو پیدا کرے ، نیچے کی طرف دکھا کر تکبر پیدا نہ کرے۔اللہ کرے کہ ہمیں حضرت محمد رسول اللہ ہے جیسے کامل رہنما کے پیچھے چلنے کے انداز عطا ہوں۔وہ اسلوب عطا ہو جائیں جو خود اس کامل رہنما ہی نے ہمیں سکھائے ہیں۔اللهم صل على محمد و علی محمد و بارک وسلم انک حمید مجید۔