خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 890
خطبات طاہر جلد 14 890 خطبہ جمعہ 24 نومبر 1995ء وو۔۔۔اور خلق بضم خا سے مراد وہ صورت باطنی یعنی خواص اندرونی ہیں جن کی رو سے حقیقت انسانی، حقیقت حیوانیہ سے امتیاز کلی رکھتی ہے۔۔۔“ اب جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام امتیاز کی بات کر رہے ہیں وہاں صرف انسان کی صورت پر آکر جو ہر عضو اور ہر ذرہ درجہ کمال کو پہنچ گیا ہے وہاں اس وقت کی بات کر رہے ہیں مگر میں نے قرآن کے حوالے سے آپ کو بتایا تھا کہ ان صورتوں سے پہلے بھی ایک بہت لمبا صورتوں کا سفر موجود ہے۔یہ جو موجودہ آخری صورت ہے یہ وہ ہے جو انسان کو حیوان سے ممتاز کرتی ہے ورنہ انسان کی صورت میں اور حیوان کی صورت میں مشابہتیں ہیں تو سہی مگر امتیاز بھی ہے۔فرمایا یہ ہے خلق اور انسان کی خلق ، خلق ظاہر جو اس کے بدن سے تعلق رکھتی ہے۔فرمایا ایک اس کو خلق عطا ہوا ہے خلق کیا ہے؟ خلق ، ان اندرونی صفات کا نام ہے جو انسان کو عطا ہوئیں اور ان صفات کے لحاظ سے باقی جانوروں سے وہ ممتاز اور الگ ہے اور کوئی جانور یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے بھی اس نوع کی یہ صفت ملی ہوئی ہے اس سے ملتی جلتی تو ہیں۔جیسا کہ جنت میں جو خدا ہمیں تحائف عطا فرمائے گا ہمیں کچھ ملتا جلتا دکھائی دے گا تو ہم کہیں گے نا کہ ہم نے پہلے بھی کھایا ہوا ہے۔اللہ فرمائے گا نہیں ملتی جلتی ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ملتی جلتی صفات کا انکار نہیں فرما رہے اس غلطی میں نہ مبتلا ہو جائیں۔فرمایا ہے ہلتی جلتی ہونے کے باوجود جب انسان کے درجہ پر پہنچ کر وہ خلق ظاہر ہوتا ہے جو خالصہ انسان کو عطا ہوا ہے تو وہ خلق کسی اور جانور کو نہیں ملا اور وہاں انسان ہر دوسرے جانور سے الگ۔اور ممتاز ہو جاتا ہے۔پھر فرماتے ہیں: و, -۔۔۔پس جس قدر انسان میں من حیث الانسانیت اندرونی خواص پائے جاتے ہیں اور شجرہ و انسانیت کو نچوڑ کر نکل سکتے ہیں۔۔۔“ اب انسانیت کا شجرہ کیا ہے۔وہ تمام صفات حسنہ جو خلق کے طور پر انسان کو ودیعت ہوئی ہیں اور وہ صفات حسنہ جو دوسرے جانوروں اور اس کے درمیان ایک امتیا ز قائم کر دیتی ہیں وہ اگر انسان کو نچوڑا جائے تو جو خلاصہ نکلے گا اس کا نام خلق ہے۔وہ روح انسانی ہے کیونکہ خلاصے اور نچوڑ کو بھی روح کہا جاتا ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ روح بھی اسی سے بنے گی۔مرنے کے بعد جس روح کو ایک آزاد حیثیت عطا ہو گی وہ انسانی خلق سے ہی بنے گی اور وہ خلق اگر چہ آغاز میں حسین دیا گیا تھا جو