خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 891
خطبات طاہر جلد 14 891 خطبہ جمعہ 24 نومبر 1995ء جس حد تک اس خلق کو بگاڑے گا اسی حد تک اس کی روح بدصورت اور بد زیب اور بدمزہ ہوتی چلی جائے گی اور وہ روح جو پیدا ہوگی وہ انسان کے اپنے گناہوں، اپنے ظلم کے نتیجے میں پیدا ہوگی اس کی ذمہ داری خدا تعالیٰ پر نہیں ہے تو فرمایا کہ اس شجرہ کو اگر نچوڑ کر دیکھیں تو جو کچھ اس کا پھل تم پاؤ گے وہ خلق ہے۔جو کہ انسان اور حیوان میں من حیث الباطن مابہ الامتیاز ہیں“۔یہ ساری باتیں وہ ہیں جو باطنی طور پر انسان اور حیوان میں ایک امتیاز قائم کرتی ہیں ان سب کا نام خلق ہے۔“۔۔اور چونکہ شجرہ فطرت انسانی اصل میں توسط اور اعتدال پر واقع وو ہے اور ہر وقت افراط و تفریط سے جو قوای حیوانیہ میں پایا جاتا ہے منزہ ہے۔جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (تين :5) ( براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد اول صفحہ 195-194) اب یہ فقرہ بھی سمجھانا ہے لازماً کیونکہ عموما جو سننے والے ہیں علمی لحاظ سے خواہ کسی درجے پر واقع ہوں فطری لحاظ سے اس فقرے کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔اگر یہ نہ ہوتا تو انسان کو اس مضمون کے لئے پیدا ہی نہ کیا جاتا اور چونکہ آنحضرت ﷺہ ظاہری علم کے بغیر ہم سب میں سانجھے ہیں اور شریک ہیں یعنی ہمارے ہیں اس لئے علم کا کوئی پردہ بیچ میں حائل نہیں ہے۔آپ کی ذات کو سمجھنے کے لئے وہ جو خدا سے علم پاتا ہے وہ علم پا کر آگے بتاتا ہے اور اگر غور سے سنا جائے یا مزید محنت سے سمجھایا جائے تو سمجھ آنے والی بات ہے۔اس کا ظاہری علم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مگر چونکہ ظاہری علم کے بغیر یہ باتیں بیان نہیں ہوتیں اس لئے کھولنی پڑتی ہیں۔پس اب دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیا فرما رہے ہیں۔”شجرہ فطرت انسانی اصل میں توسط اعتدال پر واقع ہے حقیقت کے اعتبار سے جو خدا تعالیٰ نے انسان کو صفات عطا فرمائی ہیں ان صفات میں آغاز میں اعتدال تھا اور وسطی طور پر واقع ہوئی تھیں۔ان میں کوئی انتہا پسندی نہیں تھی۔کسی انتہا کی طرف جھکنا فطرتا نہیں تھا، اگر یہ ہوتا تو يـولـد عـلـى الفطرۃ کا معنی سمجھ میں آتا کہ کیا ہے۔ہر انسان کو اللہ نے فطرت پر پیدا کیا ہے جو قرآن کریم فرما رہا ہے۔یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس میں اعتدال ہو۔ورنہ اگر خدا نے فطرت میں بے اعتدالی رکھی ہوتی تو پھر کوئی اعتدال والی