خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 889 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 889

خطبات طاہر جلد 14 889 خطبہ جمعہ 24 نومبر 1995ء وہ ظاہری شکل ہے۔انسانی جسم کی ساخت جو واہب الصور اس ذات کی طرف سے عطا ہوئی ہے جو صورتیں عطا فرمانے والی ذات ہے جو صورتیں بخشنے والی ذات ہے جس کا ایک نام مصور بھی ہے تو فرمایا اس نے جو ظاہری شکل عطا فرمائی ہے۔ظاہری شکل سے مراد یہ مراد نہیں ہے جو ہمیں دکھائی دے رہی ہے۔مراد ہے جسمانی شکل جو اندر بھی ہے، باہر بھی ہے اور ہر جزو میں ہے اور ہر جزو کی شکل کا تعلق کل سے بھی ہے اور ہر دوسرے جزو سے بھی ہے تو یہ مضمون ہے کہ ہمیں کون سی صور عطاء کی گئی ہیں یہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ اپنی ذات میں ایک بہت لمبا سفر ہے۔هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ (آل عمران:7) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھا کر وغور کر وہم تمہیں رحموں کے اندر کیا کیا صورتیں بخشتے ہیں اور رحموں کے اندر جو صورتیں بخشتے ہیں ان کے متعلق سائنس دانوں اور ہمیں یہ کہہ کر اس سفر کو ہی لامتناہی بنا دیا، سائنس دان کہتے ہیں کہ زندگی کا پہلا ذرہ جو پیدا ہوا ہے اس وقت سے لے کر ایک ارب سال کا سفر جو ارتقاء کا سفر ہے جس میں انسان ٹھیک ٹھاک کیا گیا ہے۔مٹی سے بنا کر اس ایک ارب سال کے سفر میں انسان جن جن شکلوں سے گذرا ہے وہ ساری شکلیں نو مہینے کے اندر رحم مادر میں دہرائی جاتی ہیں اور ایک فلم چل جاتی ہے جو ایک ارب سال کا سفر بچہ نو مہینے میں طے کر رہا ہے اور قرآن کے سوا کوئی دنیا کی کتاب نہیں ہے جو یہ کہتی ہو کہ رحم مادر میں ہم نے تمہیں جو تصویر میں دی ہیں دیکھو تو سہی۔تم یونہی تو نہیں بن گئے کہ مٹی سے تھوپ تھاپ تمہیں ایک گڈا سا بنا کے کھڑا کر دیا ہے، بے وقوفی کی بات ہے۔ان نو مہینے کا سفر اگرتم کرلو تو تمہیں یہ پتہ چل جائے گا کہ ہم نے تمہیں کتنی دیر میں کتنے مراحل سے گزار کر وہ صورت بخشی ہے جس پر تم اب فخر کرتے ہو کہ کیسی اچھی صورت ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب واہب الصور کی بات کرتے ہیں تو جمع کا صیغہ استعمال فرمایا ہے صور صورتوں کے بخشنے والے نے گویا انسانی صورت کے اندر یا اس کے ماضی میں جتنی صورتیں بھی انسان کو عطا ہوتی رہیں یہ خلق ہے تفتح خاء۔جس صورت کے ساتھ وہ دوسرے حیوانات کی صورتوں سے ممیز ہے۔۔۔“ یہ آخری شکل ہے اس کی۔