خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 878
خطبات طاہر جلد 14 878 خطبہ جمعہ 17 نومبر 1995ء صلى الله ساتھ کہ اپنے وجود کو مٹا کر کلیۂ محمد رسول اللہ ﷺ کے نور کے منعکس ہو گئے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے سوا اور کوئی وجود نہیں ہے۔پس جس نے بھی یہ نور پانا ہے یعنی نورمحمد مصطفیٰ وہ آج محتاج ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آنکھ سے محمد ﷺ کا نور دیکھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کان سے محمد رسول اللہ ﷺ کا کلام سنے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے احساسات کے ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ کے احساسات سے فیض یافتہ ہو۔یہ جو وسیلہ ہے یہ وسیلہ دوری پیدا کرنے کے لئے نہیں بلکہ اتصال کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ورنہ محمد رسول اللہ ﷺ کو خدا نے کیوں وسیلہ کر دیا کیوں براہ راست ہر ایک سے تعلق نہ جوڑ لیا۔کیا محمد کا وسیلہ ہونا بندے اور خدا کے درمیان ایک تیسرے کا دخل ہے، ہرگز نہیں۔وسیلہ کہتے ہیں جو اگر نہ ہو تو اس نور سے تعلق جڑ ہی نہ سکے اور اگر تعلق خام ہے تو تام ہو جائے۔تھوڑا ہے تو بڑھ جائے۔پس چاند کی ضرورت اس وقت در پیش ہوتی ہے جب براہ راست سورج دکھائی نہ دے رہا ہو اور اس مماثلت کا اطلاق یہاں ہوتا ہے۔یہ وہ دور آگیا ہے جبکہ محمد رسول اللہ ﷺ کی اپنی پیش گوئیوں کے مطابق گویا زمین سے ایمان اٹھ کر ثریا پر چلا گیا۔جب مکمل تاریکی چھا گئی اس وقت کوئی چہرہ ایسا ہونا چاہیے تھا جو دنیا کی اس سطح سے بلند ہو کر اپنے سورج کو دیکھے اور اس سے وہ نور پائے جو سب میں پھر تقسیم کر دے۔یہ جو صفت ہے اپنی ذات کو مٹا کر اور دنیا کے ماحول سے بلند تر ہو کر ایک انفرادیت اختیار کرتے ہوئے وہ سورج دیکھنے لگے جو دنیا کو دکھائی نہ دے اور اس کی روشنی کو پھر کمال صفائی اور وفا کے ساتھ اس دنیا کو دے جونور کے نہ ہونے کی وجہ سے اندھی ہو چکی ہو۔اس کو اگر کوئی کہے کہ بیچ میں ڈالا جا رہا ہے تو اس سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں ہو سکتا۔اگر بیچ کی بات ہے تو محمد رسول اللہ اللہ کو اپنے اور خدا کے درمیان سے نکال کے تو دیکھیے کیسے کیسے اندھیروں میں بھٹک جاؤ گے۔پس یہ شرک نہیں ہے، یہ تو حید بلکہ خالص توحید بلکہ اعلیٰ درجے کی توحید کا مظہر مضمون ہے جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں اور اس کا تعلق نور سے ہے لیکن اس کے متعلق اور بھی باتیں ہیں جو انشاء اللہ پھر آئندہ خطبات میں پیش کروں گا۔