خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 877
خطبات طاہر جلد 14 877 خطبہ جمعہ 17 نومبر 1995ء دنیا کو منور کر جاتا ہے اور ہر صفت نور کے تعلق میں آنحضرت ﷺ سب سے بڑھ کر چکے ہیں۔یہاں تک کہ قرآن کریم ایک پہلو سے آپ کو سِرَاجًا منيرا (الاحزاب:47) کہہ دیتا ہے۔گویا کہ ہر وہ شخص جو نور پاتا ہے محمد رسول اللہ اللہ کے نور سے فیض یافتہ ہے اور جو اس سراج سے نور یافتہ نہیں وہ اندھیرا ہے اور دوسرے مقام پر جیسا کہ اس مقام پر ہے آپ کو نور قرار دے رہا ہے۔تو یہ بھی ایک مسئلہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ اگر آپ سِرَاجًا منیرا ہیں تو نور اور سراج میں تو فرق ہے۔سراج تو اس چراغ کو کہتے ہیں جو خو د روشن ہو اور جب وہ کسی چیز پر پڑتا ہے جو روشن نہ ہو تو وہاں جو روشنی دکھائی دیتی ہے اس کو نور کہتے ہیں، اس لئے قرآن کریم نے سورج کو ضیاء قرار دیا اور چاند کو ”نور“۔ضیاء سراج سے تعلق رکھنے والی روشنی ہے جو اس کی ذات سے اٹھی ہے اور نو ر اس روشنی کا نام ہے جو کسی پر پڑتی ہے تو اس کے پرتو سے وہ روشن ہو جاتی ہے۔تو آنحضرت ﷺ کو ایک پہلو سے سراج قرار دے دیا کہ دنیا میں ساری کائنات میں اب کوئی شخص روشن نہیں ہو گا جب تک اس سورج سے فیض یافتہ نہ ہواور وہ نور یافتہ ہو گا وہ سراج نہیں بن سکتا اور دوسری طرف آنحضرت ﷺ کونور فرما دیا یہ بتانے کے لئے کہ اللہ کے تعلق سے آپ نور ہیں اور بنی نوع کے تعلق سے سراج ہیں۔جو کچھ آپ کی ذات میں جلوہ گر ہے وہ اللہ کا نور ہے اور اس وجہ سے آپ سراج بن کر اٹھے ہیں مگر سراج ہیں بنی نوع انسان کے لئے۔پس یہ دو تعلق کے رخ الگ الگ ہونے کی وجہ سے یہ نام بدل گئے۔تبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے سراج کا لفظ کہیں نہیں آتا۔نور کا ذکر ہی چلتا ہے صرف۔اس لئے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا نور آپ کی ذات میں صلى صلى الله اس طرح چمکا ہے جیسے چودہویں کا چاند سورج سے چمک اٹھتا ہے اور اس کا ہر گوشہ روشن ہو جاتا ہے۔پس اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ضیا کا لفظ اور سراج کا لفظ استعمال کرنا غیر حقیقی ہے۔جائز نہیں کہ آپ کو سراج کہا جائے کیونکہ آپ سراج نہیں تھے۔آپ قمر تھے اور قمر کے لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس کو نور بنایا ہے۔پس آنحضرت کے جن معنوں میں خدا کے حضور نور تھے ،خدا تو نہیں تھے مگر اس کے نور کو منعکس کرنے والے تھے۔انہی معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام محمد رسول الله و تو صلى الله نہیں مگر محمد رسول اللہ اللہ کے نور کو منعکس کرنے والے وجود تھے اور اس دور میں اس کمال صفائی کے