خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 875
خطبات طاہر جلد 14 875 خطبہ جمعہ 17 نومبر 1995ء ہوتے ہیں ان کے اندر چونکہ نور نہیں ہوتا اس لئے اگر نور نازل بھی ہو تو بسا اوقات نوراندھیرے پیدا کر کے چلا جاتا ہے اور ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا۔اب یہ بھی کوئی پوچھ سکتا ہے نور سے اندھیرے کیسے پیدا ہوتے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم ایسی مثالیں دیتے ہیں جو بعض لوگوں کے ایمان کو بڑھا دیتی ہیں ، بعض لوگوں کی بیماریوں کو اور بڑھا دیتی ہیں۔تو نور تو حقائق کی اصل تصویر کو ظاہر کرتا ہے۔پس وہ نازل ہونے والا نور جوان لوگوں پر اترتا ہے یا ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔یہ اس طرح کا نور نہیں ہے جو موہبت ہوا ہے انعام کے طور پر۔یہاں نور سے مراد یہ ہے کہ ان کی حقیقت کو ظاہر کرنے والا نور ہے۔قرآن کریم کی وحی نازل ہوتی ہے بعضوں کے اوپر ابتلاء لے آتی ہے۔فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا وہ مرض میں بڑھنے لگ جاتے ہیں اور بعضوں کی پاک صفات کو اس طرح اجاگر کرتی ہے کہ جو لوگوں کی نظر سے غائب تھیں ان کو بھی دکھائی دینے لگتی ہیں اور ان کو مزید روشنی عطا کر دیتی ہے۔پس یہ نُور عَلَى نُورِ کا جو منظر قرآن کریم نے کھینچا ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مضمون کھولا ہے کہ اللہ کی وحی کے بغیر بھی رسول اللہ ﷺے اس کی محتاجی کے بغیر ہی سارے عالم کی ہدایت کا سامان کرتے۔یہ مراد نہیں ہے۔مراد یہ کہ اس آخری مرتبہ کمال تک پہنچ چکا تھا گویا بھڑک اٹھنے کے لیئے وہ خود تیار ہے اور دوسرا معنی اس کا یہ ہے کہ اگر آنحضرت ﷺ پر میں ایک فرض محال کے طور پر بات کر رہا ہوں یہ تو ہو نہیں سکتا تھا کہ آپ پر وحی نازل نہ ہوتی مگر نہ بھی نازل ہوتی تو دنیا کی جس موضوع پر بھی سیادت فرماتے ، جس انسانی دلچسپی کے دائرے میں بھی آپ قیادت ہاتھ میں لیتے وہ بالکل صاف اور پاک اور شفاف قیادت ہوتی۔یہی مضمون ہے جو غیر شعوری طور پر کارلائل سمجھ گیا یعنی قرآن کریم کی ان باتوں پر تو اس کی نظر نہیں تھی مگر اس نے محمد رسول اللہ ﷺ کے نور کو اس طرح چمکتے دیکھا کہ یہ راز وہ سمجھ گیا کہ یہ وہ شخص ہے کہ جہاں بھی جاتا وہاں بھی اسی طرح چمک اٹھتا جس طرح مذہب میں چکا ہے۔پس Hero and Hero Worship اس کی کتاب میں صلى الله حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ اگر وہ جرنیل ہوتا تو دنیا میں جرنیلوں میں کوئی ایسا نہیں تھا جو اس کا مقابلہ کر سکتا۔اگر وہ سیاست دان بن کر اٹھتا تو دنیا کے تمام سیاست دانوں کو مات کر دیتا۔اگر وہ طبیب بن کر اٹھتا تو تمام دنیا کے طبیبوں کو اس کے سامنے زانوئے ادب تہہ