خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 874
خطبات طاہر جلد 14 874 خطبہ جمعہ 17 نومبر 1995ء وو۔۔۔جس میں نہ مزاج موسوی کی طرح درشتی ہے نہ مزاج عیسوی کی مانند نرمی بلکہ درشتی اور نرمی اور قہر اور لطف کا جامع ہے اور مظہر کمال اعتدال اور جامع بین الجلال والجمال ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 194-193 ) یہ ہے آنحضرت ﷺ کا تیل جو روشن ہوا ہے آگے جو مضمون بیان ہوا ہے اس کا تعلق اس آیت کے اس حصے سے ہے کہ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَار یعنی یہ نور، یہ تیل تو ایسا شفاف تھا کہ از خود روشن ہو کر بھڑک اٹھنے پر تیار بیٹھا تھا۔اگر آسمان سے شعلہ نور نہ بھی نازل ہوتا تو یہ تیار تھا۔پس جب یہ شعلہ نور نازل ہوا تو نُور عَلى نُورٍ یہ فطری صفات اس نور سے چمک اٹھیں اور جس طرح Lesar Phenomenone ہوتا ہے کہ ایک لہر کے مطابق دوسری لہر باہر سے آتی ہے تو کئی گنا اس کے اندر جلاء پیدا ہو جاتی ہے اور طاقت بڑھ جاتی ہے۔ارا اگر بعینہ اس کے مطابق نہ ہو تو مخالف جوامواج ہیں یعنی waves وہ آپس میں ایک دوسرے سے ٹکرا کر یعنی مخالف امواج اور کسی معاملے کے موافق امواج ساری طاقت کو کم کر دیتی ہیں اور بعض دفعہ کلیہ زائل بھی کر دیتی ہیں۔اور اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص جس کو کچی خوا میں بھی آتی ہیں اگر اس کا نور فطرت پوری طرح روشن نہ ہو تو بعض دفعہ وہ خوا ہیں اس کو بچانے کی بجائے اس کی ہلاکت کا موجب بھی بن جاتی ہیں۔اس کے اندر نفسانیت کا اندھیرا ہوتا ہے۔ان خوابوں کے ذریعے وہ بجائے اس کے کہ اور زیادہ بجز اختیار کرے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے وحی کے نزول کے آغاز میں بجز کا مظاہرہ فرمایا اور تمام زندگی کے سفر میں عاجز بندے بنے رہے وہ اس نور کی وجہ سے تھے جو آپ کی ذات میں تھا اور اس نور میں اعتدال تھا۔یہاں اعتدال کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے مقابل پر اپنی حیثیت کو ایک لمحہ بھی نظر انداز نہیں فرمایا اور اس کے مقابل پر اس کی عظمت کو دیکھ کر اپنا انتہائی بے بس اور خالی ہاتھ ہونا، یہ آنحضرت ﷺ کی ساری زندگی میں آپ کے ہر فعل پر اثر انداز ہوا ہے۔کامل عجز جس کے نتیجے میں خدا کے نور کو یہ موقع ملا کہ جہاں آپ نے اپنے آپ کو مٹایا وہاں اس نور نے جگہ لے لی اور سارا سینہ اللہ کے نور کے لئے خالی کر دیا، اپنا نور اس میں باقی نہیں رکھا۔یہ بھی ایک نور بصیرت ہے نور فطرت تقاضا کرتا ہے کہ وہ بجز دکھائے تو آسمان سے نو ر اس پر اترے اور اس کی کمی کو پورا کرے اور جو کمزور