خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 876 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 876

خطبات طاہر جلد 14 876 خطبہ جمعہ 17 نومبر 1995ء کرنے پڑتے ، وہ اس سے سیکھتے۔ان الفاظ میں تو نہیں مگر بالکل اسی مضمون کو کارلائل نے حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے ضمن میں اٹھایا ہے اور کہا ہے یہ چونکہ مذہب کی دنیا میں نکلا ہے اس لئے تمام دوسرے انبیاء سے آگے بڑھ گیا اور ان کا سردار ہو گیا کیونکہ اس کی فطرت میں سرداری تھی یہ بغیر سردار بنے رہ ہی نہیں سکتا تھا۔یہ وہ مضمون ہے جس کو قرآن کریم فرماتا ہے کہ اگر آسمان سے شعلہ نور نہ بھی نازل ہوتا تو اپنے دنیا کے تمام تعلقات میں اس نے نور ہی رہنا تھا اور سیادت کے لئے کامل ہو چکا تھا۔پس اب اگر یہ امر محال ہے پھر میں بتا رہا ہوں، اگر رسول اللہ ﷺ پر یہ وحی نازل نہ ہوتی تو دنیاوی امور میں عرب کی جیسی سیادت آپ فرما سکتے تھے اس کی دنیا کی سیادتوں میں کوئی دوسری مثال نہ ہوتی مگر آپ نے تو اپنے آپ کو کلیۂ خدا کے تابع فرما دیا تھا۔اپنی صلاحیتوں کو اس کے حضور پیش کر دیا تھا۔اس لئے آپ پر وہ شعلہ نوراترا ہے جس نے آپ کو نُورٌ عَلى نُورٍ کر دیا۔صل الله اس کی دوسری توجیہہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یوں فرماتے ہیں کہ دراصل کوئی بھی نور جو آسمان سے اترتا ہے جب تک اندرونی نور موجود نہ ہو اس نور سے کوئی تعلق قائم بھی نہیں کر سکتا اور فائدہ بھی نہیں اٹھا سکتا۔آپ نے فرمایا روشنی ہے۔اب دیوار میں تو روشنی کو نہیں دیکھ سکتیں۔وہ جانور جو اندھے ہوں یا انسان جو اندھے ہوں لاکھ روشنی ہو وہ اس سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ارتعاش پایا جاتا ہے ساری کائنات میں جس کو ہم مکمل خاموشی کہتے ہیں اس کا کوئی وجود نہیں مگر اس ارتعاش کو سننے کے کان تو سنتے ہیں اور اسی طرح چکھنے کے لئے اندرونی نور موجود ہو تو انسان چکھتا ہے ،خوشبو کے لئے اندرونی نور موجود ہو تو سونگھتا ہے۔اگر وہ نہ ہو تو کچھ بھی نہیں پتا لگتا یہ خوشبو ہے کہ بد بو ہے۔میں تو ہومیو پیتھک علاج کرتا ہوں میرے سامنے تو بارہا ایسے آتے ہیں کہ جی کھانے کا مزہ اٹھ گیا۔کچھ نہیں۔جو مرضی کھائیں لگتا ہے، مٹی کھا رہے ہیں۔جب خوشبو ہی نہیں آتی تو ہم کیا کریں۔نہ بد بو نہ خوشبو۔تو ایک چھوٹی سی خدا کی رحمانیت کی صفت کا جلوہ اٹھتا ہے تو انسان کیسی بریکار چیز رہ جاتا ہے، مٹی کا مٹی رہ جاتا ہے۔تو آنحضرت ﷺ کو وہ اندرونی نور اس شان کے عطا ہوئے تھے کہ گویا از خود دیکھنے پر تیار بیٹھے تھے۔ان پر جب آسمان سے نورا اترا ہے تو نُورٌ عَلى نُورِ سبحان اللہ کیسا نور اٹھا ہے کہ ساری