خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 873 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 873

خطبات طاہر جلد 14 873 خطبہ جمعہ 17 نومبر 1995ء رہا اور نہیں ہٹنا اور پھر وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائده: 68 )۔اس میں یہ مضمون بھی ہے۔صرف بدنی حفاظت نہیں ہے فرمایا فکر نہ کر تو عزم صمیم لے کر اٹھ کھڑا ہو اللہ وعدہ کرتا ہے کہ تجھے دشمنوں کی کوششوں سے بچاتا رہے گا اور اپنی حفاظت میں رکھے گا۔پس یہ ہے وہ شریعت جو آنحضرت ﷺ کی وضع استقامت پر واقع ہونے سے تعلق رکھتی ہے اس کے مناسب حال وحی ہونی چاہئے تھی۔ورنہ اللہ تعالی فصیح و بلیغ نہ رہتا کیونکہ حمل کا نتقاضا اور ہوتا ہے اور خدا کچھ اس سے اور معاملہ کرتا جو اس کے عدل کے بھی خلاف تھا اور خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ایک فصاحت و بلاغت کی جلا ہے جس سے دنیا کی فصاحت و بلاغت فیض پاتی ہے اس کے خلاف ہوتا اگر وحی اس کے عین مطابق نہ ہوتی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔وو۔۔۔بلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقع کی ملحوظ طبیعت مبارک تھی۔سو قرآن شریف بھی اسی طرز موزوں و معتدل پر نازل ہوا کہ جامع شدت و رحمت و هیبت و شفقت و نرمی و درشتی ہے۔سو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا کہ چراغ وحی فرقان اس شجرہ مبارکہ سے روشن کیا گیا ہے۔۔۔“ اب یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اس سے روشن ہوا ہے تو بتارہے ہیں کہ یہ مطلب نہیں ہے، حضرت صلى الله مسیح موعود علیہ السلام ہی میں یہ سمجھا رہے ہیں کہ یہ مطلب نہیں ہے کہ وحی الہی از خودمحمد رسول اللہ ہے سے پھوٹی ہے۔فرمایا اول تو وہ تیل فیض یافتہ ہے اس پانی کا جو عقل کل کا پانی تھا جس سے وہ سیراب ہوا۔دوسرے یہ کہ یہ مطلب نہیں ہے کہ اس تیل سے پھوٹی ہے مطلب ہے کہ یہ تیل اس بات کا متقاضی تھا کہ عین اس کی شان کے مطابق وحی نازل ہو گویا اس تیل سے وہ ظاہر ہوئی۔یہ گویا کے معنی ہیں جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام توجہ دلاتے ہیں۔”۔۔۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا کہ چراغ وحی فرقان اس شجرہ مبارکہ سے روشن کیا گیا ہے کہ نہ شرقی ہے نہ غربی ہے یعنی طینت معتدلہ محمدی کے موافق نازل ہوا ہے۔۔۔“ یہ مطلب ہے اس تیل سے اس نور کے پھوٹنے کا۔