خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 872
خطبات طاہر جلد 14 872 خطبہ جمعہ 17 نومبر 1995ء محمد مصطفی ی مستقیم نہ ہوتے اور استقامت کا یہ مرتبہ آپ کو حاصل نہ ہوتا کہ ہر دوسرے کی معاندانہ کوشش کے باوجود اپنی حالت مستقیمہ پر قائم رہتے اس کی حفاظت کرنا جانتے تو اُمتِ مستقیمہ کہلا ہی نہیں سکتی تھی۔پس یہ صراط مستقیم محمد رسول اللہ ﷺ کی فیض یافتہ ہے۔آپ نے صراط مستقیم پر قدم رکھا ہے تو پھر ہمیں توفیق ملی ہے ورنہ اس کا کوئی وجود ہی ہمارے لئے نہ ہوتا تبھی اللہ تعالیٰ نے أَنْعَمْتَ کہہ کر فرمایا کہ اس صراط کو کہیں اپنی کمائی نہ سمجھ بیٹھنا۔تم یہ دعا مانگو کہ جن پر خدا نے انعام کیا تھا انہوں نے جو راہ بنائی ہے یعنی ان کے قدموں کے نشان سے جو تمہاری راہنمائی کر رہی ہے ان کے پیچھے چلو گے تو مستقیمہ حالت میں رہو گے۔جب ان کے قدموں سے انحراف کیا تو تمھاری حالت مستقیمہ ختم ہو جائے گی۔اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں اعتدالات کا نام، ان کے صفات کے مناسب ظہور کا نام صفتِ محمدیہ ہے۔جسے آپ صفت مستقیمہ بھی قرار دیتے ہیں۔فرماتے ہیں۔، دد مگر آنحضرت اللہ کا مزاج بغایت درجہ وضع استقامت پر واقعہ تھا۔“ آپ کا مزاج ہی وہاں تھا جہاں الہی تعلیمات انسان کو لے جانا چاہتی تھیں اور از خود فطرتاً وہاں تھے۔یعنی اپنی طبیعت پر زور ڈال کر اس کے مخالف چل کر آپ نے الہی تعلیمات سے اخلاق نہیں سیکھے بلکہ آپ کی فطرت سے وہی اخلاق پھوٹ رہے تھے جو انسان کو سکھا نا خدا کا مقصود تھا اور اس لئے تھا کہ فطرت صافی چشمہ صافی سے پروردہ تھی اس لئے آپ کو زور لگا کر سچ نہیں بولنا پڑا اور اس سے بھی حالت مستقیمہ پر ایک روشنی پڑتی ہے۔ایک شخص جس کو سچ سے طبعی تعلق نہ ہو جھوٹ بولنے کا مادہ رکھتا ہو وہ جب بیچ بولتا ہے تو زور لگا کر اس کی حفاظت کرنی پڑتی ہے اور اگر مقابل کا تقاضا بڑھ جائے تو وہ زور کام نہیں آتا اور انسان سچائی کے تقاضوں کو جھوٹ کی قربان گاہ پر شار کر دیتا ہے۔یہ خطرہ اس کو لاحق رہتا ہے۔پس جسے خطرہ لاحق ہے اس کے متعلق یہ بھی تو احتمال ہے کہ کہیں ٹھو کر کھا جائے گا۔پس فطرت محمدیہ کو اندرونی کوئی بھی خطرہ نہیں تھا۔اتنی مستحکم تھی ان صفات حسنہ پر کہ مزاج کا خطرہ نہیں تھا۔جہاں مزاج کی طرف سے خطرہ نہیں تھا بیرونی خطرے تھے، ان کے متعلق ایک تو خدا تعالیٰ نے نصیحت فرمائی کہ خوب ہوشیار ہو کر بیدار نظر کے ساتھ دیکھو کہ کوئی تجھے اپنے مسلک سے ہٹا تو نہیں