خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 871
خطبات طاہر جلد 14 871 خطبہ جمعہ 17 نومبر 1995ء حالت کے طور پر جو وزن اسے عطا ہوا ہے صرف اسی حد تک دفاع کر سکتی ہے اس سے زیادہ نہیں مگر اگر جاندار ہے تو وہ اپنا دفاع جانتا ہے اگر ایک بچے کو بھی اس کی مرضی کے خلاف اٹھانے کی کوشش کریں اور وہ اس کی حالت مستقیمہ ہے جہاں مزے سے وہ بیٹھا ہوا ہے تو وہ آگے سے مارے گا ، ہاتھ پاؤں جھٹکے گا بعض دفعہ آپ زور کریں گے تو آپ کو ٹانگیں بھی مارے گا لیکن اگر اس میں طاقت نہ ہو تو زبر دستی اس کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔آنحضرت ﷺ کی حالت مستقیمہ فطرت کے اعتدال پر واقع تھی اور ذاتی مزاج میں بھی جبکہ دوسرے انبیاء کے مزاج میں بعض ایک طرف رجحان کے شامل تھے آپ کے مزاج میں اعتدال تھا اس لئے خلق میں نرمی بھی تھی ، خلق میں برمحل سختی بھی تھی اور اس کا توازن ایسا تھا کہ اس سے آپ از خود ہٹ ہی نہیں سکتے تھے۔اس پر مستزاد یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بار بار آپ کو متنبہ فرما دیا کہ لوگ تجھے ہٹانے کی کوشش کریں گے اور تو نے پوری قوت سے اس کا مقابلہ کرنا ہے۔فرمایا اگر ایک ذرہ بھی تو اس راہ سے ہٹ گیا جس پر تو گامزن ہے اور اللہ کے فضل سے گامزن ہے تو پھر کہیں کا بھی نہیں رہے گا۔اب یہ عجیب بات ہے بظاہر لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ ضرورت سے زیادہ ہی سختی کر دی ہے۔ہم سے تو بے شمار غلطیاں ہو جاتی ہیں محمد رسول اللہ اللہ کے متعلق فرمایا ایک ذرہ بھی ایک قدم ایک طرف ہوا تو یہ نہیں فرمایا کہ اس کے مطابق سزا ہوگی فرمایا تو کہیں کا بھی نہیں رہے گا ، اکھڑ جائے گا تو گیا۔یہ در اصل مضمون حالت مستقیمہ سے تعلق رکھتا ہے۔ایک چیز کو آپ ہٹانا شروع کریں ایک طرف تو ایک مقام ایسا آئے گا کہ ایک ذرہ بھی ادھر ہوا تو وہ گر کے اپنے وجود کو ضائع کر دے گا۔تو ایک لغزش چھوٹی سی شروع ہوتی ہے اگر حالت مستقیمہ سے تعلق رکھتی ہو تو پھر اس پر نہ صرف یہ کہ قرار نہیں رہ سکتا بلکہ اس سے گر کر وہ پھر تنزل کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور گرتا چلا جاتا ہے۔پس انبیاء کو جو خدا تعالیٰ حالت مستقیمہ عطا فرماتا ہے، جس تعلیم پر ان کا اعتدال ٹھراتا ہے اس سے ایک ذرہ بھی اگر وہ حرکت کر کے الگ ہوں تو ان کے گرنے اور تنزل کا دور شروع ہو جاتا ہے۔یہ مراد ہے کہ تو نے ہر حالت میں ہر مد مقابل کی کوششوں کو رد کرتے ہوئے ، ہر دشمن کی تمام تر جد و جہد جو تیرے پیغام اور مسلک سے تجھے ہٹانے کی کی جائے گی کلیہ رد کرتے ہوئے اس حالت کو قائم رکھنا ہے، چھٹے رہنا ہے اس سے زرا انحراف نہیں کرنا اور اسی سے امت مستقیم ہوگی۔اگر حضرت