خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 870 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 870

خطبات طاہر جلد 14 870 خطبہ جمعہ 17 نومبر 1995ء تھا توریت میں بھی موسوی فطرت کے مطابق ایک جلالی شریعت نازل ہوئی“۔وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج کے عین مطابق ہے۔حضرت موسی جس طرح کلام کیا کرتے تھے جو خاص ان کی ادائیں ہیں جو دل نشین بھی ہیں اور جلال کا پہلو بھی رکھتی ہیں اللہ تعالیٰ آپ سے ویسے ہی کلام فرما تارہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔وو۔۔۔حضرت مسیح علیہ السلام کے مزاج میں علم اور نرمی تھی۔سوانجیل صلى الله کی تعلیم بھی حلم اور نرمی پر مشتمل ہے مگر آنحضرت ﷺ کا مزاج بغایت درجہ وضع استقامت پر واقعہ تھا۔۔۔(براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد اول صفحہ 193) وضع استقامت صراط مستقیم جسے ہم کہتے ہیں وہ لفظ مستقیم لفظ استقامت سے ہی نکلا ہے۔استقامت کے بہت سے معانی ہیں یہاں ان معنوں میں استعمال فرمایا گیا ہے کہ وہ عین مرکز میں واقع ہو۔نہ اس طرف اس کا جھکاؤ ہو ، نہ اس طرف جھکاؤ ہو اور جو مرکز میں واقع ہو وہی قرار پکڑتی ہے جو مرکز میں واقع نہ ہو وہ چیز قرار نہیں پکڑتی۔Equilbrium کا اصول ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہاں بیان فرمارہے ہیں۔ہر وہ چیز جو عین اس جگہ واقع نہ ہو جو اس کے او پر اثر انداز طاقتوں کے درمیان کا محل ہے وہ ہر وقت مائل بہ تبدل رہے گی۔ایک پیالی کو بھی آپ اٹھا کے ذرا سایوں ٹیڑھا کر کے رکھیں جب تک آپ سہارا دئیے رکھیں گے وہ اس حالت میں رہے گی مگر اس کا مزاج یہ ہوگا کہ میں ہر وقت واپس لوٹوں اس حالت پر لوٹ جاؤں جہاں مجھے قرار نصیب ہے۔تو اگر ایک شخص کی فطرت بعینہ ان طاقتوں کے مرکز پر واقع ہو جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی تقویم کی خاطر پیدا فرمائی ہیں تو اس کی کشش اس کو اسی مقام پر ٹھہرائے رکھے گی اور اس سے استقامت پیدا ہوتی ہے۔پس کسی ایک مقام پر قرار پکڑ جانا اور قائم رہنا یہ استقامت ہے اور اگر اس کے ساتھ شعور پیدا ہو جائے تو اس استقامت کو بدلنے والی طاقتوں کے مقابلے کی طاقت بھی اس کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔تو استقامت دو قسم کی ہے ایک طبعی یعنی جیسا کہ ایک چیز Equilibrium کی حالت میں ہے، وہ ایسی جگہ پڑی ہوئے ہے کہ اس پر کوئی قوت اثر انداز نہیں وہ وہیں ٹھہری رہے گی۔دوسری ہے اس کو ہلانے کی کوشش کی جائے ، اس کی جگہ بدلنے کی کوشش کی جائے۔اگر وہ بے جان چیز ہے تو طبعی