خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 851
خطبات طاہر جلد 14 851 خطبہ جمعہ 10 نومبر 1995ء تر معارف کو ہم پر کھولنے کا ایک رستہ پیدا فرما دیا۔۔۔۔کیونکہ معانی معقولہ کو صور محسوسہ میں بیان کرنے سے ہر ایک غبی و بلید بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے۔۔۔“ اس لئے ایسا کیا گیا کہ اگر معقولات کی دنیا کو تصویری زبان میں پیش کر دیا جائے اور بنا کر Demonstrate کر کے دکھایا جائے تو ایک نبی ، موٹی عقل والا اور معمولی فہم والا انسان بھی ان لطائف کو سمجھ سکتا ہے جو اس مثال کی مدد کے بغیر سمجھ نہیں آسکتے تھے۔پس اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی مثال بیان فرمائی ہے۔دو۔۔۔بقیہ ترجمہ آیات ممدوحہ یہ ہے اس نور کی مثال ( فرد کامل میں جو ،، پیغمبر ہے ) یہ ہے جیسے ایک طاق (یعنی سینه مشروح حضرت پیغمبر خدام یہ جو فرمایا ہے کہ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ مُشکوۃ کہتے ہیں طاق کو تو آپ نے فرما یا طاق سے مراد ہے محمد رسول اللہ ﷺ کی مثال میں ان کے کیا معنی ہیں، فرماتے ہیں، حضرت اقدس محمد رسول صلى الله اللہ ﷺ کا کھلا سینہ، وہ سینہ جو کائنات کی وسعتوں کو سمیٹنے کے لئے کھل چکا تھا اور ایسا وسعت پذیر تھا کہ اللہ کے نور کی وسعتیں اس سینے میں معرفت بن کر اتر سکتی تھیں اور اترتی تھیں اس کو مشکوۃ فرمایا ہے۔مشروح لفظ میں یہ حکمت بیان ہوئی ہے کہ کیوں محمد رسول اللہ ﷺ کا سینہ چنا گیا کیونکہ اس میں صلى الله وسعتیں بہت تھیں۔”۔۔۔اور طاق میں ایک چراغ۔۔۔،، اور طاق کے اندر یعنی اس سینے میں ایک چراغ ہے وہ کیا ہے فرمایا وہ وحی ہے۔اللہ کی وحی جو نازل ہوتی ہے وہ چراغ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے نور کو اپنے نور کی مثال کے طور پر محمد رسول اللہ ﷺ کے سینے میں روشن دکھایا ہے۔وو ”۔۔۔اور چراغ ایک شیشے کی قندیل میں جو نہایت مصفی ہے۔۔۔66 چراغ کہاں ہے ایک شیشے کے لیمپ میں۔قندیل شمع کو کہتے ہیں جس میں اردگر دشیشے کا گلاس ہو تو فرمایا ایک شیشے کی قندیل میں ہے جو نہایت مصفی ہے وہ ایسا صاف ہے کہ اس روشنی کو اپنے سے گزارتے ہوئے گدلا نہیں کرتا بلکہ وہ پوری طرح مصفیٰ حالت میں چمکتی ہوئی ہر طرف پھیلتی ہے۔