خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 852
خطبات طاہر جلد 14 صلى الله 852 خطبہ جمعہ 10 /نومبر 1995ء پس محمد رسول اللہ ﷺ کا دل اس لئے لازم تھا کہ اللہ کا نور جیسا محمد رسول اللہ ہے کے دل میں جلوہ گر تمام دیکھنے والوں کو دکھائی دے سکتا تھا اور دنیا میں کسی وجود میں یہ صلاحیت ہی نہیں تھی کہ اس طرح شفاف طور پر ایک ادنی سی بھی میل ڈالے بغیر بعینہ جیسا حاصل کیا تھا اسی صورت میں وہ روشن کر کے دنیا کو دکھا دے۔یہ بنیادی صفت تھی محمد مصطفی میلے کے دل کی جس کی وجہ سے آپ کو نور کی قندیل بنایا گیا۔فرماتے ہیں:۔وو۔۔۔یعنی نہایت پاک اور مقدس دل میں جو آنحضرت ﷺ کا دل ہے جو کہ اپنی اصل فطرت میں شیشہ سفید اور صافی کی طرح ہر یک طور کی کثافت اور کدورت سے منزہ اور مطہر ہے۔۔۔“ یعنی ایسے صاف شیشے کی طرح جس میں ادنی سی بھی میل نہ ہو، ہر چیز سے پاک کر دیا گیا ہے، ہر کدورت سے صاف ہے اور مطہر ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے پاکیزگی عطا فرمائی گئی ہے۔۔۔۔اور تعلقات ماسوی اللہ سے بکلی پاک ہے۔۔۔“ اب آپ یہ دیکھیں کہ کیسی عظیم الشان تفسیر ہے دل کے پاک اور صاف، کدورتوں سے پاک ہونے کی۔فرماتے ہیں اللہ کے سوا ہر دوسرے تعلق کی میل سے پاک ہے اور وحی الہی اگر ایسے دل سے جلوہ گر ہو جس میں دنیا کا کوئی بھی میلان ہو تو اسی حد تک وحی الہی کا انعکاس مکدر ہو جائے گا۔پس جس کو ہم شیشوں کے داغ کہتے ہیں وہ خدا کے سوا دنیا کے تعلقات کے داغ ہیں جو انسان کو خود وحی و الہی سمجھنے سے بھی محروم کر دیتے ہیں۔کسی حد تک اس کا انعکاس جو ہوتا ہے وہ ان رشتوں کے حوالے سے بھی ہونے لگتا ہے جو اس کے دل کے خدا کے علاوہ رشتے ہیں۔تو جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں بے داغ ، کدورت سے پاک تو یہ فرضی باتیں نہیں ہیں کہ فرضی تعریف ہورہی ہے۔لفاظی نہیں ہے ایسی گہری حقیقتیں ہیں کہ ان میں اتر کر جب آپ منشاء مبارک کو سمجھیں تو پھر سمجھ آتی ہے کہ نو ر کیا تھا اور کیا ہے اور کن معنوں میں اسے نور قرار دیا گیا ہے پس وہ قلب صافی حضرت اقدس محمد مصطفی ملے جو ایک قندیل کے طور پر نور اللہ کے لئے بنایا گیا یعنی اس پر وحی نازل ہو اور اس وحی کی چمک ہر کثافت سے پاک ہو کر تمام دنیا کو روشن کر