خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 80

خطبات طاہر جلد 14 80 60 خطبہ جمعہ 3 فروری 1995ء استطاعت ہو اور حقوق ادا کرنے کی توفیق ملے جن میں بیوی بچوں کے حقوق بھی ہیں عزیزوں اور اقرباء کے حقوق بھی ہیں۔عام غرباء کے حقوق بھی ہیں تو اس نیت سے اگر چہ بظاہر انسان دنیا میں وقت خرچ کر رہا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے یہ نسخہ ہمیں سمجھا دیا کہ ایسے اوقات دراصل خدا کے نزدیک دین میں خرچ ہونے والے اوقات کے طور پر لکھے جائیں گے۔تو اس پہلو سے ہمیں اپنے اوقات پر بھی اس رمضان میں نظر کرنی چاہئے۔کتنے اوقات ہم زیادہ سے زیادہ اللہ کے لئے نکال رہے ہیں۔یعنی پہلے جو کسی اور مصرف میں آیا کرتے تھے اب ہم خدا کی خاطر انہیں نکال کر خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کا مقصد کیا ہے۔بعض لوگ تہجد پر اٹھتے ہیں، بعض لوگ جو نمازیں نہیں پڑھتے تھے وہ نمازیں شروع کر دیتے ہیں، بعض لوگ بعض بدیوں سے پر ہیز کرتے ہیں مگر تا بہ کے۔کب تک؟ کیا رمضان گزرنے کا انتظار کرتے ہیں کہ رمضان گزرے تو آرام سے سوئیں۔تہجد کی مصیبت سے نجات ملے۔کیا رمضان گزرنے کا انتظار کرتے ہیں کہ رمضان گزرے تو وہ نیکیاں جو ہم نے خوامخواہ اپنے اوپر چڑھالی تھیں ان کا غازہ اتار پھینکیں اور اپنی اصلیت کی طرف واپس آجائیں۔اگر یہ مقصد ہے اور اس طرح رمضان گزررہے ہیں تو یہ رمضان گزارنے کے ڈھنگ نہیں ہیں۔یہ تو بے وقوفی کے سودے ہیں۔وقتی طور پر کچھ دیر کے لئے لذت ملتی ہے اور ساری کی ساری لذت اگر ایک مصیبت کے طور پر ہے جس نے رمضان کے ساتھ ہی گزر جانا ہے اور کالعدم ہو جاتا ہے تو یہ ایک بے وقوفی کا سودا ہے لیکن اگر دیانتداری کے ساتھ کوشش اور جد و جہد اور محبت کے ساتھ رمضان سے استفادہ کرتے ہوئے انسان نیکیوں کی کوشش کرتا ہے تو اگر چہ وہ نیکیاں اسی طرح دائم نہیں رہتیں اور رمضان کے گزرنے کے بعد ان میں کچھ کمی واقع ہو جاتی ہے مگر پہلے سے بہتر حال پر انسان کو چھوڑ جاتی ہیں۔جو داغ دھوئے تھے وہ اگر ابھرتے بھی ہیں تو پوری طرح نہیں ابھرتے ، بہت حد تک مٹ چکے ہوتے ہیں ، اگر کچھ نیکیاں اختیار کی گئی تھیں تو وہ نیکیاں پوری طرح نہیں مٹا کرتیں، کچھ نقوش کو بہتر بنا جاتی ہیں، کچھ اللہ کی محبت کے رنگ پیچھے چھوڑ جاتی ہیں۔اگر یہ سلسلہ ہے تو یہ انچ انچ، قدم قدم اور کچھ نہ کچھ حسب توفیق خدا کی طرف بڑھنے کا نظارہ ہے۔پس اس پہلو سے وہ رمضان ضائع تو نہیں جاتا مگر اس رمضان سے ویسا استفادہ نہیں ہو سکا جیسا کہ ہونا چاہئے تھا۔پس یہاں بھی میں پھر اس دعا کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ سب ہم مل کر اپنے لئے ، اپنے