خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 79
خطبات طاہر جلد 14 79 12 خطبہ جمعہ 3 فروری 1995ء لئے ہے، بعضوں کے لئے دنیا کی دلچسپیوں میں ہے، مجالس میں جانے کے لئے ہے مگر دین کے کاموں میں آنے کے لئے نہیں ہے۔یہ مطلب تو نہیں کہ وقت نہیں ہے مراد یہ ہے کہ ترجیحات مختلف ہیں۔بعض لوگ تو دینی معاملات میں ایسی دلچسپی رکھتے ہیں کہ بعض جگہوں سے خبریں ملیں کہ ایک گاؤں چھوڑ کر جہاں بجلی بند ہو گئی تھی، مرد عورتیں اور بچے پیدل بھاگے ہیں دوسرے گاؤں کہ شاید وہاں بجلی ہو اور وہاں ہم دیکھ سکیں۔تو یہ ترجیحات کی باتیں ہیں اور جس کا وقت دین کے لئے زیادہ ہو وہی وقت ہے جس میں برکت دی جاتی ہے۔وہی وقت ہے جو اللہ کے حضور وقت لکھا جاتا ہے ورنہ گھڑیوں کے وقت تو ہر کس و ناکس پر چلتے ہیں۔ہر مذہب والے اور ہر لا مذہب پر چلتے ہیں۔ان سے در حقیقت وقت کی قیمت نہیں ناپی جاتی۔ایک space time کا تصور ہے جو ہر چیز پر یکساں گزرتا ہے خواہ وہ زندہ ہو خواہ وہ مردہ ہو۔مگر جس وقت کی میں بات کر رہا ہوں یہ وہ وقت ہے جو اپنے خالق کے ساتھ ایک شعوری کوشش سے تعلق قائم کرنے میں خرچ ہوتا ہے۔باشعور کوشش کہ میں اپنے رب سے ملوں اور اپنے رب کو راضی کروں، ایسی باتیں کروں جو اس کی محبت جیتنے والی ہوں، ایسی باتوں سے پر ہیز کروں جو اس کی ناپسندیدگی کا مظہر بنیں اور ناپسندیدگی پیدا کرنے والی ہوں۔یہ وہ جد و جہد ہے جس جد و جہد میں جو وقت خرچ ہو وہ وقت ہے اور اس کے سوا جو باتیں ہیں وہ تو گزارے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ انسان کو جو کچھ بھی اللہ عطا فرماتا ہے یا وہ کنجوسی سے روک رکھتا ہے یا وہ اپنے اوپر اور اپنے بچوں پر خرچ کر لیتا ہے یا وہ خدا کی خاطر اس کے ان کاموں پر خرچ کرتا ہے جن سے اللہ راضی ہو۔فرمایا جو پہلے دو کام ہیں جن پر خرچ کئے جاتے ہیں۔وہ تو موت کے ساتھ یہیں مٹی میں مل جائیں گے اور پیچھے رہ جائیں گے اور اس کا مال اس کا مال نہیں رہے گا جو کھالیا وہ ختم ہو گیا، جو روک رکھا وہ اس کے کام کا نہیں، اس کے کسی کام بھی نہیں آ سکتا۔نہ اس دنیا میں نہ اُس دنیا میں لیکن جو اس نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہے وہ آگے بھیجا جاتا ہے اور وہی اس کا مال ہے کیونکہ وہ دائمی ہے۔اس پہلو سے وقت کو بھی دیکھیں تو وقت وہی ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ ہو کیونکہ وہ وقت آگے بھیجا جائے گا اور وہ وقت جسے ہم ضائع کر بیٹھے ہیں وہ مٹی میں مل جائے گا اس کی کوئی بھی حیثیت باقی نہیں رہتی۔پس دنیا کے کام تو ہیں لیکن دنیا کے کام بھی اگر اللہ کی رضا کی خاطر اس نیت سے کئے جائیں کہ دین کے کاموں میں سہولت پیدا ہو اور زیادہ سے زیادہ نیکیوں کی