خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 837
خطبات طاہر جلد 14 837 خطبہ جمعہ 3 نومبر 1995ء والے ان کو عادت بنانی ہے اور تحریک جدید کے چندے سے پہلے کچھ نہ کچھ ہمیں بنیادی چندہ ضرور وصول کرنا ہوگا کیونکہ اس کے بغیر طوعی چندے چل نہیں سکتے۔پس اس لحاظ سے میرا نصیحت کا خلاصہ یہ ہے کہ نئے آنے والوں کو ضرور شامل کریں۔مگر ان کو تحریک جدید یا وقف جدید میں شامل کرنے سے پہلے کچھ نہ کچھ چندہ عام میں یا موصی ہو تو چندہ وصیت میں ان کو ضرور شامل کریں۔اس میں رعایت ان کو دے دیں میری طرف سے اجازت ہے۔سولہواں حصہ کی شرط بے شک نہ لگائیں۔مگر جب وہ پورا اس بات کا شعور حاصل کر لیں اور ان کو اس بات کا لطف آئے کہ ہم با قاعدہ جماعت کے چندہ دہند ہیں اور مالی نظام میں شامل ہو گئے ہیں پھر طوعی تحریکات کر کے اس تعداد کو بڑھانے کی کوشش کریں۔اس طرح انشاء اللہ بہت کثرت کے ساتھ تحریک جدید، وقف جدید وغیرہ میں لوگ شامل ہوں گے اور جتنا زیادہ ان کو چندے کی عادت پڑے گی اتنا ہی اللہ تعالیٰ سے برکتیں حاصل کریں گے اور اس کے قرب کے نشان دیکھیں گے۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مالی قربانی کرنے والوں کو خدا اس نعمت سے محروم رکھے۔خلاصۂ اب صرف فہرست پڑھ دیتا ہوں۔امسال بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت جرمنی کو یہ سعادت نصیب ہوئی ہے کہ وہ دنیا بھر کی جماعتوں میں تحریک جدید کے چندے میں اول آئی ہے اور جو لازمی چندے ہیں ان میں بھی اول آئی ہے۔بعض دوسری جماعتیں بہت زور لگا رہی ہیں مگر اللہ کا احسان ہے جس کو توفیق مل گئی مل گئی۔ہمیں حسد نہیں ہے صرف رشک ہونا چاہئے۔اس لئے ان کی خوشیوں میں وہ جماعتیں بھی شامل ہونی چاہئیں جن کی پوری کوشش تھی کہ ان سے آگے بڑھ جائیں لیکن نہیں بڑھ سکے۔دوسرے نمبر پر پاکستان ہے اور ان کے درمیان ایک لاکھ پاؤنڈ کا فرق رہ گیا ہے۔تو اس سے آپ اندازہ کریں کہ وہ بے چارے جو پاکستان میں دینی لحاظ سے بھی کمزور تھے ویسے بھی ان کے آنے سے پاکستان کے چندوں کو پتا بھی نہیں لگا کتنا فرق پڑا ہے۔اکثر بہت تھوڑا دیا کرتے تھے تو یہاں آ کر خدا نے ان کو کیسی ہجرت کی برکتیں عطا فرمائی ہیں۔ان کے اموال کشادہ کر دیئے ، ان کے دل کشادہ کر دیئے اور اب وہ اپنے آبائی وطن کو ان قربانیوں میں بہت پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔امریکہ جو مسلسل خدا کے فضل سے ترقی پذیر ہے اور توازن کے ساتھ ، امریکہ کی جماعت میں یہ خوبی ہے کہ ان کی قربانیوں میں توازن بہت ہے۔تحریک جدید کا چندہ ہے