خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 836
خطبات طاہر جلد 14 836 خطبہ جمعہ 3 /نومبر 1995ء ممالک میں کچھ یہ بھی وجہ ہو سکتی ہے کہ وعدے کئے تھے اس وقت حالات بہتر تھے بعد میں حالات گر گئے۔کچھ یہ بھی ہوتا ہے کہ نظام مواصلات کمزور ہے دیر کے بعد اطلاعیں ملتی ہیں۔دیہاتی علاقوں میں ٹیلی فون بھی نہیں ہوتے تو اس لئے زیادہ تر جو کمی ہے وہ ان علاقوں میں ہے اور جہاں سے فوراً خبریں ملتی ہیں وہاں صورت حال بہت بہتر ہے۔تعداد مجاہدین کے لحاظ سے بھی یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اس پر نظر رکھیں کیونکہ اگر کوئی ایک آنہ بھی خدا کی راہ میں دینے والا پیدا ہو جس کو پہلے عادت نہیں ہے اور آنہ بھی تکلیف دے رہا ہے تو اس کی اصلاح کا بھی آغاز ہو گیا۔اس لئے میں نے کہا تھا کہ اب یہ شرطیں بھول جائیں کہ چھ روپے یا بارہ روپے یا چوبیس روپے کم سے کم چندہ ہے۔مجھے اس ظاہری فائدے کی ضرورت تو ہے جماعت کی خاطر مگر زیادہ میری نظر اور حرص اس مخفی فائدے میں ہے جو مالی قربانی سے وابستہ ہے اور نئے آنے والے خصوصیت سے جو آٹھ لاکھ چالیس ہزار سے زائد کی تعداد میں پچھلے سال آئے تھے اگر آپ نے ان سے کچھ کچھ مالی قربانی وصول نہ کرنا شروع کی تو ان کی تربیت کے آپ اہل نہیں رہیں گے۔اس لئے کوشش کریں کہ وہ آٹھ لاکھ کے آٹھ لاکھ مگر آٹھ لاکھ تو اس طرح شامل نہیں ہو سکتے ، اس میں بچے بھی شامل تھے، نہ کمانے والے بھی تھے، مگر یہ شرط لگا ئیں کہ آٹھ لاکھ کا وہ فعال حصہ جو غریب ہے تو اپنی غریبانہ معیشت کے ذریعے وہ اپنی ضرورت پوری کر رہا ہے وہ بھی دین کی ضرورتیں پوری کرنے میں کچھ نہ کچھ حصہ لے خواہ تھوڑا ہی ہو اور شروع میں اتنا صرف لیا جائے جو وہ بشاشت سے دے سکے اور اس بشاشت کی خیر سے وہ پھر آگے جا کر اور زیادہ فیوض حاصل کرے گا ، اس کو اور زیادہ قربانیوں کی توفیق ملے گی اس کا دین سنورے گا، اس کو وابستگی کا احساس زیادہ مضبوط ہوگا۔اس کے ایمان میں جیسا کہ مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا صلابت پیدا ہو جائے گی۔پس تحریک جدید کے جو شامل ہونے والے اعداد و شمار ہیں وہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ابھی اس پہلو سے بہت سا خلا ہے۔جب سے بار بار ہدایت کی گئی ہے جماعت نے ترقی تو بہت کی ہے اور اس سال خدا کے فضل سے مجاہدین کی تعداد ایک لاکھ سٹرسٹھ ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ اکیاسی ہزار دوسو انتیس ہو چکی ہے اور یہ چندہ دہندگان کی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی خوش کن ہے۔کیونکہ اگرچہ بہت بڑی جماعت پیچھے خالی پڑی ہوئی ہے۔ان میں ابھی بہت سے تربیت کا کام کرنے