خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 835 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 835

خطبات طاہر جلد 14 835 خطبہ جمعہ 3 نومبر 1995ء اخراجات پورے ہورہے ہیں کہ نہیں۔اگر بڑھتے ہوئے اخراجات پورے ہورہے ہیں اور اخراجات بڑھ رہے ہیں اور پورے بھی ہو رہے ہیں تو یہ کہنا کہ شاید Inflation کی وجہ سے دھوکا لگ گیا ہو جماعت نے زیادہ قربانی نہیں کی، نہایت ہی بے وقوفی کی بات ہے۔آمد کا بڑھنا خرچ سے تعلق رکھتا ہے اگر بڑھتے ہوئے خرچ پورے ہورہے ہیں تو لازما آمد بڑھ رہی ہے۔کوئی اقتصادیات کا ماہر یہ نہیں کہ سکتا کہ یہ فرضی آمد بڑھائی گئی ہے۔جب حقیقی ضرورت پوری ہوگی تو آمد کیسے فرضی ہو جائے گی۔پس اس پہلو سے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو یہ توفیق بخشی ہے کہ گزشتہ سب سالوں پر جن پر میری نظر ہے ہمیشہ ترقی ہوئی ہے۔ایک بھی سال ایسا نہیں آیا کہ ہمارے خرچ رک جائیں اور ہمیں ہاتھ کھینچ کر اس لئے خرچ کرنا پڑے کہ آمد پیچھے رہ گئی ہے۔خواہشات کے مقابل پر تو ہاتھ کھینچنے پڑتے ہیں اس میں تو کوئی شک نہیں۔زیادہ کی خواہش تو ہمیشہ رہتی ہے۔مگر جو خرچ گزشتہ سال ہوئے تھے اس کے مقابل پر کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ خرچ پورے نہ ہو سکے ہوں بلکہ اس سے زیادہ خرچ پورے ہوتے ہیں۔پس اعداد و شمار جو بھی بولیں یہ حق گواہی دیتے ہیں کہ جماعت کی قربانی کا قدم آگے کی طرف ہے اور پھر الْحَمْدُ لِله کا مضمون ہے جو دل سے بے اختیار اٹھتا ہے۔اس ضمن میں خلاصہ یہ ہے کہ جواب تک ستر (70) ممالک کی رپورٹیں ملی ہیں ان کے مطابق وعده جات 6,52,49,000 تھے اور وصولی 6,00,05,204روپے ہے۔وصولی اگر چہ تھوڑی ہے لیکن یہ تحریک جدید کا دستور ہے کہ جب ہمیں رپورٹیں پہنچتی ہیں تو اس وقت اور سال ختم ہونے کے درمیان بہت سی وصولیاں ہیں جو چلی ہوئی ہیں اور وہ رپورٹ بنانے والے سیکرٹری کے علم میں اس وقت نہیں ہوتیں۔اس لئے حقیقی رپورٹ بنتی ہے 15 دن یا ایک مہینے کے بعد اور اس رپورٹ کو جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیشہ خدا کے فضل سے وعدوں سے وصولیاں بڑھ جاتی ہیں۔اس لئے جو تھوڑی سی کمی دکھائی دیتی ہے اس میں پریشانی کی بات نہیں۔کرنسی جو ہم نے اس کو سٹرلنگ میں تبدیل کیا ہے اس حساب سے 13,31,620 پاؤنڈ کے وعدے تھے اور 12,24,596 کی وصولیاں ہیں۔ان میں جو کمی ہے وہ زیادہ تر مشرقی ممالک کی ہے۔جہاں تک مغربی ممالک کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان سب میں اب تک کی وصولی کی اطلاع کے مطابق وعدوں سے ہر جگہ وصولی بڑھ گئی ہے۔اس سے جماعت کی قربانی کے ساتھ اس کے ولولے کا بھی پتہ چلتا ہے اور غریب