خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 829 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 829

خطبات طاہر جلد 14 829 خطبہ جمعہ 3 /نومبر 1995ء سفر کرتے ہیں تو دیکھ رہے ہیں مگر وہاں نگاہ پڑتی ہے جہاں حسن آپ کو کھینچتا ہے، کسی موڑ پر کوئی خوبصورت وادی دکھائی دے تو وہ دیکھنا اور ہے اور ویسے سارا راستہ دیکھتے ہی تو جارہے ہیں۔اگر سوئے نہیں ہوتے تو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔تو ان معنوں میں خدا دیکھتا ہے کہ جہاں اس کو اپنا کوئی عبد مملوک دکھائی دے اس کی کوئی خوبصورتی چمک اٹھے تو تب اس پر نظر پڑتی ہے پس ایسا بندہ جو سر میں خرچ کرتا ہے اور اس حالت میں دنیا کی نظر سے غائب ہو جاتا ہے، دیکھنے والا خدا کے سوا کوئی نہیں رہتا تب خدا اسے کئی طرح سے دیکھتا ہے۔ایک تو اس طرح جیسے میں نے بیان کیا، وو دوسرے اس طرح کہ جب میری خاطر اس نے چھپا لیا اس کو کوئی دیکھنے والا نہیں تو میں اور میرے فرشتے اس کو دیکھیں گے اور اس نظر کی جو قدرو قیمت ہے اور اس کا جو فیض ہے وہ بھی اپنی ذات میں منفرد ہے۔وہ انسان کے دیکھنے سے نہیں پہنچ سکتا۔اس کے فیض میں پھر نفس کی پلیدیاں دور ہوتی ہیں۔خدا کی نظر مزکی ہے۔خدا کا اپنے بندے کے حال کو دیکھنا جو کہ اس کے پیار میں ایک ادنیٰ حالت سے اعلیٰ کی طرف حرکت کر رہا ہے وہ انسانی روح اور اس کی فطرت جو خدا کی خاطر بجتی ہے اسے پھر خدا اور نظر سے دیکھتا ہے اور وہ نظر خود اس کے سنگھار کرنے کا موجب بن جاتی ہے۔اس کی پلیدیاں دور کرنے کا موجب بن جاتی ہے۔یہ کوئی فرضی مضمون نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو چونکہ ساری زندگی کا یہ تجربہ تھا کہ جب خدا دیکھ رہا ہو تو اس کے کیا نتائج پیدا ہوتے ہیں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب ایسی بات لکھتے ہیں تو اس کے پیچھے ایک زندگی کے تجربے کا مضمون ہے جو بیان ہو رہا ہے۔وہ نظم نہیں آپ نے پڑھی۔بار ہا پڑھی یا سنی ہے سبحان من یرانی۔اب یہ کوئی جھوٹا سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ مصرعہ لگائے کہ سبحان من یرانی۔اس لئے کہ اس یرانی کے اندر جب بھی آپ اس کو دہراتے ہیں ایک نیا لطف محسوس کرتے ہیں اور اس خدا کی نظر کا ایک لمبا تجربہ ہے۔پس جہاں بھی خدا کے دیکھنے کا مضمون پیدا ہوتا ہے اس میں یہ پس منظر بھی ضرور اس کے پیچھے جلوے دکھا رہا ہے خواہ آپ گہری نظر سے اسے نہ بھی دیکھ سکیں مگر ہوتا ضرور ہے۔پس دیکھنے کا جو مضمون ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف جگہوں پر بیان فرمایا ہے میں اس کی بات اب کر رہا ہوں اس موقع پر وہ چسپاں ہوتا ہے۔جب ایک انسان خدا کی