خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 828
خطبات طاہر جلد 14 828 خطبہ جمعہ 3 رنومبر 1995ء ایک اور مضمون ہے جو مسیح موعود علیہ السلام بیان فرمار ہے ہیں کہ مالی قربانی سے جونفس کی پاکیزگی کا تعلق ہے اس میں مالی قربانی کرتے وقت اس کا کچھ دکھ محسوس ہونا چاہئے تا کہ انسان سمجھے کہ میں نے تکلیف اٹھائی ہے مگر خدا کی خاطر اٹھائی ہے۔یہ احساس ہے جو اس کے اندر پاکیزگی پیدا کرتا ہے۔فرمایا اگر یہ ہو جائے تو تب بخل کی پلیدی اس کے اندر سے نکل جاتی ہے، یعنی بخل ایک پلیدی ہے۔بخل کی تعریف تو کئی طرح سے کی گئی ہے مگر یہاں بخل سے مراد یہ ہے کہ ہر وہ ضرورت حقہ جس پر خرچ کرنا خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے اس ضرورت حقہ کو پوری کرتے ہوئے خواہ وہ اپنوں کی ہو یا غیروں کی ہو، جماعت کی ہو یا افراد کی ہو جو روک طبعیت میں پیدا ہوتی ہے اسے بخل کہا جاتا ہے اور ضرورت حقہ کی تعریف میں یہ بات داخل ہے کہ اپنے نفس کو کاٹ کر یا مار کر نہیں بلکہ اسی حد تک پوری کی جائے گی کہ غریب کی تکلیف میں بھی آپ شامل ہو جائیں اور آپ کی خوشیوں میں بھی وہ شامل ہو جائے اور دونوں طرح سے شراکت ہو۔یہ مضمون ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرما رہے ہیں۔جب یہ ہوگا تو تمہارے نفس سے بخل کی پلیدی نکال باہر پھینکی جائے گی۔فرماتے ہیں :- ”۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی ایمان میں بھی ایک شدت اور صلابت پیدا ہو جاتی ہے۔۔۔“ فرمایا ہے اس کے نتیجے میں ایمان چمک اٹھتا ہے اور اس کے اندر صرف قوت ہی نہیں بلکہ مضبوطی اور روشنی پیدا ہو جاتی ہے۔ایمان کی مضبوطی اور اس کی صلابت سے مراد یہ ہے کہ اس کے اندر سے ایک شعلہ نو راٹھتا ہے جو اسے زیادہ روشن کر دیتا ہے، زیادہ یقینی بنادیتا ہے۔پس یہ وہ مخفی فائدے تھے جن کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا یہ سر کا پہلو ہے انفاق کا جو ظاہری انفاق کے علاوہ اپنے فیوض میں بھی سر رکھتا ہے۔وہ انفاق فی سبیل اللہ جو مخفی طور پر کیا جائے اس سے نفس کی بخیلی بہت زیادہ دور ہوتی ہے بہ نسبت اس انفاق فی سبیل اللہ کے جو ظاہر کر کے کیا جائے کیونکہ مخفی اتفاق کوتو کوئی دیکھ ہی نہیں رہا مخفی انفاق تو ایسے ہے جیسے کہتے ہیں ” جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا“ خوب صورت تو لگتا ہو گا لیکن دیکھا ہی کسی نے نہیں تو کیا فرق پڑتا ہے نا چایانہ نا چا۔ایسی کیفیت میں جب انسان مالی قربانی کرتا ہے تو تب خدا اسے دیکھتا ہے حالانکہ سب کو دیکھ رہا ہے مگر ایک حسن پر جب نگاہ پڑتی ہے تو اور طرح سے پڑتی ہے۔آپ بھی تو رستہ چلتے ہر جگہ دیکھ رہے ہیں۔