خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 830 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 830

خطبات طاہر جلد 14 830 خطبہ جمعہ 3 /نومبر 1995ء خاطر سو کے ہاتھ سے کچھ خرچ کرتا ہے اس وقت خدا کے سوا کوئی دیکھنے والا نہیں رہا۔جب خداد یکھتا ہے تو پھر ایسے آثار ظاہر فرماتا ہے کہ ایسا بندہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ میں خدا کی نظر میں ہوں اور جو کسی ایسے وجود کی نظر میں ہو جس کی عظمت دل پر چھائی ہو، جس کے سامنے انسان کو اچھا بننے کی تمنا ہو تو لازم ہے کہ وہ پھر سنگھار کرے گا۔اگر بیوی ہے جس کی طرف اس کے خاوند کی اگر اس سے اس کو پیار ہے، توجہ ہے تو ہر توجہ اس کو اپنی کوئی کمزوری دور کرنے کی طرف متوجہ کرے گی۔کوئی داغ ہے وہ اسے دور کرے گی۔کوئی خوبصورتی نہیں ہے وہ زائد اس پر پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے یوں بیان فرمایا کہ اس کی پلیدیاں دور ہوتی ہیں اور حسن میں اضافہ ہوتا ہے۔اگر اس مضمون کو اس طرح نہ سمجھیں تو مال خرچ کرنے سے کیوں پلیدیاں دور ہوئیں ، کیوں حسن میں اضافہ ہوا، اس کی سمجھ نہیں آسکتی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” اور وہ دونوں حالتیں مذکورہ بالا جو پہلے اس سے ہوتی ہیں ان میں یہ پاکیزگی حاصل نہیں ہوتی بلکہ ایک چھپی ہوئی پلیدی ان کے اندر رہتی ہے۔۔۔پھر فرماتے ہیں :- وو۔۔۔اپنا محنت سے کمایا ہوا مال محض خدا کی خوشنودی کے لئے دینا یہ کسب خیر ہے جس سے وہ نفس کی ناپا کی جو سب ناپاکیوں سے بدتر ہے یعنی بخل دور ہو جاتا ہے ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 204) اب بخل کو سب ناپاکیوں سے بدتر قرار دیا ہے۔یہ بھی بہت ہی گہرا مضمون ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ بخل ہر فیض سے انسان کو محروم کر دیتا ہے کیونکہ اللہ سے تعلق توڑ دیتا ہے۔خدا سے تعلق کے قیام کے لئے قرآن نے انفاق فی سبیل اللہ ضروری شرط بیان کی ہے کیونکہ خدا اپنے بندوں پر ویسے ہی مہربان ہوتا ہے یا ان سے صرف نظر فرماتا ہے جیسے وہ اس کے بندوں سے کرتے ہیں یا اس کے دین سے کرتے ہیں۔جو شخص خدا کے دین کے لئے بخیل ہوگا، جو شخص خدا کے بندوں کے لئے بخیل ہو گا، ضرورت مندوں کے لئے بخیل ہوگا اللہ اسی حد تک اس سے ویسا ہی