خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 78 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 78

خطبات طاہر جلد 14 78 خطبہ جمعہ 3 فروری 1995ء رہی ہے اور ان تصویروں میں شریک ہورہی ہے۔پس اس خوشی سے وہ خوش تھے اور یہ الزام ہے جماعت ماریشس پر کہ وہ مایوسی کا شکار ہو کر واپس گئے۔کسی ایک آدھ شخص کے دل میں یعنی شکایت کرنے والے کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہو گا مگر میں جماعت ماریشس کے متعلق یہ تسلیم نہیں کر سکتا۔جہاں تک ذکر کا تعلق ہے اب تو یہ ہماری حدّ استطاعت میں ہی نہیں رہا۔روزانہ مختلف علاقوں سے رپورٹیں آرہی ہیں کہ اب یہاں بھی ڈش انٹینا لگ گیا وہاں بھی لگ گیا۔یہاں بھی جماعت کی طرف سے اجتماعی انتظام ہوا۔جہاں اجتماعی انتظام نہیں ہے وہاں انفرادی طور پر گھروں نے اپنے دروازے کھول دیئے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا گھر تو مسجد بن گیا ہے۔آج کل یہ مسجدیں جو خدا کے ذکر کے لئے بن رہی ہیں، یہ زیادہ معمور ہیں کیونکہ رمضان کا مہینہ ہے اور رمضان میں وہ چہرے بھی دکھائی دینے لگتے ہیں جو بالعموم یا با قاعدہ روز مرہ نماز میں دلچسپی نہیں لیتے یا اپنے گھروں میں بیٹھ کر پڑھتے ہیں اور مسجدیں ان سے دور ہوتی ہیں اس لئے ان کو عادت نہیں ہوتی لیکن رمضان کے دنوں میں تکلیف اٹھا کر بھی دور دور سے جہاں بھی مسجد میسر ہو وہاں پہنچتے ہیں تو اللہ ان کو بھی ان کی نیکی کی جزا دے۔ایسے موقع پر جبکہ سننے والوں کی تعداد اور دیکھنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہو اس وقت بہت سی باتیں کہنے کی ایسی ہوتی ہیں جو میں اپنے ذہن میں کھنگالتا رہتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ یہ بھی کہوں گا وہ بھی کہوں گا لیکن وقت بہت تھوڑا ہے اور اس لئے کچھ ترجیحات بنا کر بعض باتیں کہنی پڑتی ہیں بعض چھوڑنی پڑتی ہیں مگر بعد میں یہ سلسلہ جاری رہے گا۔سب سے پہلی تو میں یہ درخواست کروں گا کہ دعا کریں کہ رمضان کی برکت سے آنے والے دائمی ہو جائیں اور ان کے جمعے بھی دائگی بن جائیں تاکہ ہمیں یہ گھبراہٹ نہ ہو کہ کل آئے تھے آج نہیں ہیں۔کل جو باتیں ہم نہیں کہہ سکے تھے آج کہیں گے تو بھی یہ شامل نہیں ہوں گے۔اس لئے جہاں تک مجبوریاں ہیں دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کی مجبوریاں دور فرمائے ، جہاں تک سستیاں اور غفلتیں ہیں اللہ رمضان کی برکت سے ان کو صحت کاملہ عاجلہ عطا فرمائے اور نیکیوں کا ذوق پیدا ہواور دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا“ کا عہد ان کے اوقات پر بھی سچا ثابت ہو۔وقت کے متعلق جو کہا جاتا ہے وقت نہیں ہے، یہ محض ایک لا علمی کا محاورہ ہے۔ہر شخص کے پاس وقت ہوتا ہے مگر ترجیحات الگ الگ ہوتی ہیں۔بعضوں کے لئے وقت دنیا کے ٹیلی ویژن کے