خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 814 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 814

خطبات طاہر جلد 14 814 خطبہ جمعہ 27 اکتوبر 1995ء پس نور کوئی ایسی فرضی چیز نہیں ہے جو ماوراء الوراء ہونے کے بعد ہم سے بے تعلق ہو جاتا ہے بلکہ اس کا ماوراء الوراء ہونا یعنی دکھائی دینے کے پردے سے پرے اور اس سے بھی پرے ہونا اس کی طاقتوں میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے یہاں تک جب وہ وجہ اول بن جاتا ہے تو وہاں انسان کی عقل کا کوئی دخل نہیں ہے۔بڑے بڑے فلسفی وہاں پہنچ کر خاموش ہو جاتے ہیں اور اس میں دنیا دار فلسفیوں کی بات کر رہا ہوں، مذہبی فلسفیوں کی بات نہیں کر رہا۔خاموش ہو جاتے ہیں یہ کہہ کر کہ یہاں تک ہماری عقل کی رسائی تھی۔یہاں ایک انگلی دکھائی دے رہی ہے جو اس پر اشارہ کر رہی ہے پس ہماری عقل نے یہ نتیجہ نکالا کہ وہی وجہ اول ہے۔وہ وجہ اول کیا ہے ہم نہیں سمجھ سکتے۔ہماری عقل نے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ وجہ اول پیدا کرنے والی تو ہے، پیدا نہیں ہوئی کیونکہ جس مقام تک ہماری عقل کو رسائی ہوئی اس وقت تک یہ مرحلے طے ہو چکے ہیں کہ جہاں تک ہم نے دیکھا یہ باتیں ثابت ہوگئیں کہ وجہ اول وہ نہیں ہے جس کو ہم سمجھ سکے ہیں یا دیکھ سکتے ہیں یا محسوس کر سکتے ہیں یا سن سکتے ہیں بلکہ وجه اول ان محسوسات سے پرے ہے اور یقیناً وہ خالق بھی ہے کیونکہ یہ چیزیں جو ہم نے محسوسات کی دنیا میں دیکھی ہیں، یہ ہمیشہ سے نہیں ہیں۔اس لئے جو ہمیشہ سے نہیں ہے وہ لازماً مخلوق ہے اور جو خالق ہے وہ لازماً مخلوق نہیں ہے کیونکہ اگر وہ مخلوق ہوگا تو ہمیشہ سے نہیں ہوگا اور پھر اس کا وجود ہی ناممکن ہو جائے گا۔یہ ایک منطقی باریک استدلال ہے جس کے نتیجے میں ارسطو تھا یا افلاطون تھا یا بعد میں آنے والے بعض یورپین فلاسفرز تھے سب نے یہی نتیجہ نکالا کہ وجہ اول سب سے کم متمو جہے بلکہ جو قدیم فلسفی ہیں انہوں نے کہا وجہ اول میں تموج کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے لیکن وہ تموج کا خالق ہے۔یہاں تک اس کو غیر متحرک قرار دیا گیا اس خطرے سے کہ اگر تموج ہے تو توانائی کا ضیاع بھی ہوگا اور توانائی کا ضیاع ہوگا تو وہ چیز ازلی ابدی نہیں ہوسکتی۔اس کے تموج کے نتیجے میں وہ ضرور کچھ نہ کچھ گھٹتی۔ہے اور یہ بھی ایک ایسا مضمون ہے جسے Physicts خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ساری کائنات اپنی مجموعی قابل استعمال توانائی میں کم ہو رہی ہے اور اس کی وجہ تموج ہے۔تو کہتے ہیں تموج پیدا کرنے والی ذات کو خود تموج سے پاک ہونا ہوگا ورنہ وہ نہ وجہ اول بن سکتی ہے اور نہ دائمی کہلا سکتی ہے اور اس منزل کی طرف جاتے وقت یہ سفر جو چھوٹا سا میں نے آپ کو کروایا ہے آغاز میں، اس سفر کو دوبارہ ذہن میں