خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 813
خطبات طاہر جلد 14 813 خطبہ جمعہ 27 اکتوبر 1995ء گئے ہیں، کئی اعضاء بالکل مارے گئے۔صرف یہی نہیں بلکہ محسوسات کی دنیا میں بھی ان کے لئے طرح طرح کے عذاب مہیا ہوچکے ہیں جن کو دیکھنا ، جن کو محسوس کرنا اگر انسان میں احساس کی طاقت ہو بڑا مشکل کام، بڑا صبر آزما کام ہے۔تو نور کے تعلق میں یہ بھی یادرکھیں کہ نور ضروری نہیں کہ دکھائی دے بلکہ جتنا لطیف ہوگا اتنا ہی نہ دکھائی دینے والا ہوگا اور نہ دکھائی دینا اس کے عدم کی دلیل نہیں ہے بلکہ بسا اوقات یہ عظیم تر ہوتا ہے جب دکھائی نہیں دیتا۔زیادہ قوی ہو جاتا ہے جب دکھائی نہیں دیتا اور موجودات کی دنیا میں جو خدا کا نور ہے، نور کا اکثر حصہ غیب میں ہے۔بہت تھوڑا ہے جو دکھائی دینے والے تموجات سے تعلق رکھتا ہے۔تبھی یہ نور ہی کی تعریف ہے جب فرمایا کہ الَّذِینَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنُهُمْ يُنْفِقُونَ (البقره:۴۰)۔اگر حاضر فرما تا اللہ تعالیٰ تو بظاہر مضمون زیادہ طاقتور ہوتا کہ خدا کو ہر وقت حاضر دیکھ کر وہ عمل کرتے ہیں کیونکہ حاضر سے انسان ڈرتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ متقی کی تعریف ، ڈرنے والے کی تعریف یہ ہے کہ حاضر سے پرے دیکھے تو حیران رہ جائے گا کہ جو نہ دکھائی دینے والا ہے وہ انت طاقتور ہے کہ اس کے تصور کے بعد کسی بے عملی کا سوال ہی باقی نہیں رہنا چاہئے۔عمل کی ہر طاقت اس نور غیب سے عطا ہوتی ہے جو انسان کو دکھائی نہیں دیتا جو انسان کو محسوس نہیں ہوتا۔پس عظیم الشان کتاب ہے جس نے ایمان کی یہ تعریف فرما دی الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بالغیب اور اس کے معا بعد نتیجہ یہ نکالا وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ اس کی غیب کی طاقت کا ایسا اثر ان کے دلوں پر ، ان کے دماغ پر ، ان کے حواس پر پڑتا ہے کہ اس سے مرعوب ہو کر بلا توقف عبادت گزار ہو جاتے ہیں۔نمازیں قائم کرتے ہیں اور اس غیب کے اثر سے اور اس کی محبت اور اس کی طمع اور اس کے خوف سے وہ پھر جو خودا پنا ہے وہ غیروں کو دینے لگتے ہیں تا کہ وہ جو غیب ہے وہ اپنا ہو جائے اور یہ مضمون ہے وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ میں جو جاری و ساری سلسلہ ایک چلتا ہے اور جتنا یہ جاری ہوتا ہے غیب کے تعلق میں اتنا غیب قریب ہوتا جاتا ہے۔جتنا غیب کا تصور عبادتوں پر انسان کو آمادہ کرتا ہے اور غیب کو انسان جتناطاقتور سمجھتا ہے اتنا ہی اس کی نمازیں قوی ہوتی چلی جاتی ہیں۔