خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 815 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 815

خطبات طاہر جلد 14 815 خطبہ جمعہ 27 اکتوبر 1995ء حاضر کر لیں کہ ظاہری تموج سے وجہ اول کی طرف جو آپ نے حرکت اپنی دنیا میں کی ہے وہاں وجہ اول کا تموج اس کے مقابل پر اتنا خفیف ہے کہ کوئی نسبت ہی نہیں ہے لیکن وہ خفیف تموج اتنی زبر دست قو تیں پیدا کر دیتا ہے کہ اردگرد ماحول میں ایک ہیجان برپا کر دیتا ہے اور صرف وقتی طور پر ہی نہیں دور رس نتائج اس کے نکلتے ہیں۔ایک خیال پیدا ہوتا ہے اور وہ خیال دنیا کے خیالات پر اثر انداز ہو جاتا ہے۔ان خیالات کے نتیجے میں لاکھوں کروڑوں بدن متحرک ہو جاتے ہیں۔وہ لاکھوں کروڑوں بدن آگے ورثے میں ان خیالات کو اس طرح چھوڑتے ہیں کہ آنے والی نسلیں پھر متموج ہوتی چلی جاتی ہیں، متحرک ہوتی چلی جاتی ہیں اور ایک خیال جو اپنی ذات میں معمولی حرکت، اگر حرکت تھا بھی تو معمولی سی حرکت تھا، کتنی بڑی بڑی حرکتیں پیدا کر دیتا ہے۔عالمی جنگوں کے اندر دیکھیں کتنا تموج ہے، کتنی بربادی ہے، کتنی ہلاکت خیزی ہے، کیسے کیسے حیرت انگیز زلزلے دنیا پر وارد ہو جاتے ہیں۔انسانی دنیا پر بھی ، حیوانی دنیا پر بھی ، جسمانی دنیا پر بھی لیکن جس ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا ہے وہ ذہن جو طاقت کے سرچشمے پر واقع تھا۔اس ذہن کی حرکت کو آپ ما ہیں تو جو توانائی آخر اس سے پھوٹی ہے، اس کے ساتھ اس کو کوئی بھی نسبت نہیں اور اس کی مثال صرف انسانی سوچوں سے تعلق نہیں رکھتی، انسانی سوچوں کے ذریعے صرف نہیں دی جاسکتی بلکہ مادی دنیا میں بھی فزکس نے جن چیزوں کا انکشاف کیا ہے ان میں بھی نور کی یہ تشریح جو بیان کر رہا ہوں اس طرح دکھائی دیتی ہے کہ جو کشش ثقل ہے جو تمام توانائیوں کا ماخذ سمجھی جاتی ہے، ابھی تک سائنس دان چار قسم کی توانائیوں کو تین میں تو تبدیل کر چکے ہیں یعنی ان کو تین اکائیوں میں تو دیکھ رہے ہیں جیسا کہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے عظیم الشان کام اور ان کے ساتھی کے کام کے نتیجے میں اب چار کی بجائے تین توانائیوں کا تصوررہ گیا ہے۔مگر جانتے ہیں کہ آخر پہ ایک ہی نکلے گا۔یہ جانتے ہیں کہ کشش ثقل ہی ہے جو ان توانائیوں کی ماں ہے اور کشش ثقل سب سے کم متحرک ہے۔کشش ثقل کی حرکت کے متعلق ہی Debate ہے کہ اس میں حرکت ہے بھی کہ نہیں بالکل خاموش، متموج کا تو سوال ہی ان کو دکھائی نہیں دیتا۔اس لئے بعض لوگ تو اسے صرف فیلڈ Field ہی کہتے ہیں اور ایسی فیلڈ جس میں کوئی حرکت ، کوئی تموج نہیں ہے۔اگر وہ تموج مانیں تو آگے مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔مگر تموج کسی قسم کا ہے۔مشکل یہ ہے کہ کشش ثقل کے ذریعے جتنی توانائی ہم پیدا ہوتی دیکھ رہے ہیں سائنس کے