خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 789 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 789

خطبات طاہر جلد 14 فرماتے ہیں کہ: 789 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 1995ء وو وید کے رو سے چار دیوتے کہلاتے ہیں مگر قرآنی اصطلاح کی رو سے ان 66 کا نام فرشتے بھی ہے۔(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 456،455) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک اور اعتراض مخالف لوگ پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ قرآن شریف کے بعض مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے جس سے اشارۃ النص کے طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں چار فرشتے عرش کو اٹھاتے ہیں۔۔۔“۔تو دراصل وہ چار صفات باری تعالیٰ ہی ہیں اور اشارۃ النصق اس سے بھی ہے اور اس آیت کریمہ سے بھی جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ چار چار صفات والے فرشتے بھی ہیں، دو دو سے شروع کیا ہے جس طرح چار شادیوں کی اجازت میں بھی مثنی و ثلث وربع ہے لیکن اول تو موجود ہی ہوتا ہے اس کے علاوہ دو دو بھی ہیں تین تین بھی اور چار چار یہ مراد ہے اس کی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :-۔۔۔۔جس سے اشارۃ النص کے طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں چار فرشتے عرش کو اٹھاتے ہیں اور اب اس جگہ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ تو اس بات سے پاک اور برتر ہے کہ کوئی شخص اس کے عرش کو اٹھا دے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ابھی تم سن چکے ہو کہ عرش کوئی جسمانی چیز نہیں جو اٹھائی جائے یا اٹھانے کے لائق ہو بلکہ صرف تنزہ اور تقدس کے مقام کا نام عرش ہے۔۔۔“ اس کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی کے الفاظ میں یہاں بھی اور آگے بھی آئے گی۔وو۔۔۔اسی لئے اس کو غیر مخلوق کہتے ہیں ورنہ ایک مجسم چیز خدا کی خالقیت سے کیونکر باہر رہ سکتی ہے اور عرش کی نسبت جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ سب استعارات ہیں۔پس اسی سے ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ ایسا اعتراض