خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 788
خطبات طاہر جلد 14 788 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 1995ء شریف میں فرمایا ہے کہ ہر ایک چیز جو کوئی وجود رکھتی ہے اس کا میں پیدا کرنے والا ہوں۔میں ہی زمین و آسمان اور روحوں اور ان کی تمام قوتوں کا خالق ہوں۔میں اپنی ذات میں آپ قائم ہوں اور ہر ایک چیز میرے ساتھ قائم ہے۔ہر ایک ذرہ اور ہر ایک چیز جو موجود ہے وہ میری ہی پیدائش ہے (اگر فرشتے موجود ہیں تو اللہ کی پیدائش ہے، پیدائش بمعنی تخلیق ) مگر کہیں نہیں فرمایا کہ عرش بھی کوئی جسمانی چیز ہے جس کا میں پیدا کرنے والا ہوں“۔(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ :453) اس لئے عرش صفات باری تعالیٰ کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا مگر وہ صفات جس دل پر جلوہ گر ہوں اس کو بھی جس طرح ہم فرشتوں کو کہتے ہیں عرش اٹھانے والے اول طور پر وہ دل عرش اٹھانے والا ہے نہ کہ کوئی اور : " قرآن شریف میں لفظ عرش کا جہاں جہاں استعمال ہوا ہے اس سے مراد خدا کی عظمت اور جبروت اور بلندی ہے اسی وجہ سے اس کو مخلوق چیزوں میں داخل نہیں کیا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مظہر چار ہیں“۔(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 455) ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ چار مظہر سورہ فاتحہ میں درج وہ ام الصفات ہیں یعنی وہ چار صفات جو خدا تعالیٰ کی ایسی چار مرکزی صفات ہیں جن سے وہ تمام صفات پھوٹتی ہیں جن کا بنی نوع انسان سے تعلق تھا جن کا اس کائنات سے تعلق ہے کیونکہ ساری کائنات کا اور اس کی صفات کا بنی نوع انسان سے تعلق ہے۔جب ان سب کو مسخر کیا ہے خدمت پر تو ہر صفت جو پیدا فرمائی گئی ہے اس کائنات میں خواہ وہ دور ترین کے پیچھے ہٹتے ہوئے سیاروں میں پائی جائے اس نے انسان کی پیدائش پر اور اس کی صفات پر ضرور کچھ اثر چھوڑا ہے۔یہ ہے وہ مضمون جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کھول رہے ہیں: خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مظہر چار ہیں۔ان مظاہر کو جو صفات کے مظہر کے طور پر استعمال ہوتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام