خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 790 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 790

خطبات طاہر جلد 14 790 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 1995ء محض حماقت ہے۔اب ہم فرشتوں کے اٹھانے کا اصل نکتہ ناظرین کو سناتے ہیں۔۔۔66 جہاں استعارہ فرشتوں کا ذکر ہے کہ وہ اٹھائے ہوئے ہیں وہ لفظی ترجمہ نہیں ہے بلکہ استعارہ ہے۔وو۔۔۔اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے نئز ہ کے مقام میں یعنی اس مقام میں جبکہ اس کی صفت تنز ہ اس کی تمام صفات کو روپوش کر کے اس کو وراء الوراء اور نہاں در نہاں کر دیتی ہے۔جس مقام کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں عرش ہے۔تب خدا عقول انسانیہ سے بالا تر ہو جاتا ہے اور عقل کو طاقت نہیں رہتی کہ اس کو دریافت کر سکے تب اس کی چار صفتیں جن کو چار فرشتوں کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جو دنیا میں ظاہر ہو چکی ہیں اس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہیں۔۔۔“ چار صفتیں ہیں جن کو فرشتوں کا نام دیا گیا ہے مگر ہیں صفات اور ربوبیت فی ذاتہ فرشتہ نہیں ہے کیونکہ یہ بات سمجھنے کے لائق ہے کوئی شخص اس کو پڑھ کر یہ غلط نتیجہ نہ نکال لے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرشتوں کو صفات اور صفات کو فرشتے کہہ رہے ہیں۔ان صفات کو فرشتوں کا نام دیا گیا ہے مگر ہیں صفات اور وہ صفات از لی ہیں اور فرشتے ازلی نہیں ہیں۔وہ صفات از لی ہیں اور صفات از لی خدا کی ذات کا نام ہی ہے کیونکہ کوئی وجود اپنی صفات کے بغیر وجود ہی نہیں رہتا۔پس صفات باری تعالیٰ اس کے وجود کا مظہر ہیں اور اظہار کے طور پر فرشتوں کا نام بھی دیا گیا ہے مگر کن چار صفات پر فرشتوں کے نام کا اطلاق ہے اور وہ سورہ فاتحہ کی چار صفات ہیں۔اول ربوبیت جس کے ذریعہ سے وہ انسان کی روحانی اور جسمانی تکمیل کرتا ہے۔چنانچہ روح اور جسم کا ظہور ربوبیت کے تقاضا سے ہے اور اسی طرح خدا کا کلام نازل ہونا اور اس کے خارق عادت نشان ظہور میں آنار بوبیت کے تقاضا سے ہے“۔(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ: 278 279) ربوبیت کی دوتشریحیں فرمائی گئی ہیں ایک یہ کہ روح اور جسم کا ظہور ربوبیت کے تقاضا