خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 780
خطبات طاہر جلد 14 780 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 1995ء جائز بنتا ہے مگر وہ ترجمہ نہیں جو عامۃ الناس کے تصور میں فرشتوں کے اٹھانے کا خیال موجود ہے وہ بالکل غلط تصور ہے اس پر مبنی ہر خیال بھی غلط ہے۔اس ضمن میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک حوالہ مجھے کراچی سے صغیر احمد صاحب چیمہ نے بھجوایا ہے جو اسی بات پر مزید روشنی ڈال رہا ہے جو میں نے بیان کی تھی ،فرماتے ہیں: ملائکہ تمام نظام عالم کی ابتدائی کڑیاں ہیں اور خدا تعالیٰ کے حکم کو چلانے والے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا (المومن : 8 ) ( یہ ترجمہ نہیں ہے معنے بیان فرمائے گئے ہیں ) یعنی فرشتے جو عرش کو اٹھا رہے ہیں اور وہ بھی جو عرش کے گرد ہیں اپنے رب کی حمد کرتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومنوں کے قصوروں کے لئے معافی کی دعاؤں میں لگے رہتے ہیں۔عرش کے معنے سورہ یونس نوٹ پانچ میں بیان کئے گئے ہیں اور ثابت کیا گیا ہے کہ اس سے مراد صفات الہیہ کے ظہور کے ہیں۔یعنی عرش کوئی ایسی چیز نہیں جسے کوئی کندھا دے کر اٹھا لے۔تو فرشتوں کا صفات الہی سے تعلق ہے اور قرآن کریم سے یہ قطعی طور پر ثابت ہے اور وہ آیات بھی اور اس سلسلے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی عرش اور فرشتوں کا اکٹھا ذکر فرمایا ہے وہ میں حوالے آج آپ کے سامنے رکھوں گا تا کہ یہ مضمون پوری طرح کھل جائے ، فرماتے ہیں: عرش کو اٹھانے کے یہ معنے ہوئے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرتے ہیں“ اس سے زیادہ کوئی معنے نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس مضمون کو اسی طرح کھولا ہے اور جو میں بات بیان کر رہا ہوں وہ بھی بعینہ یہی ہے کہ فرشتوں کے اس طرح کسی چیز کو اٹھانے کا قطعاً کوئی ذکر نہیں ملتا گویا وہ کوئی مادی چیز ہو جو فرشتوں کے کندھے پر رکھی گئی ہو بلکہ اس آیت کریمہ کی تشریح جو غالباً میں نے پچھلی دفعہ کی تھی ، تو میں آپ کو بتا تا ہوں اس کی رو سے میں اول اس آیت کا اطلاق حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے